خود سے خود تک
آج پھر سفر درپیش ہے۔ کون سا سفر ؟آج تک انسان خود سے خود تک کا سفر ہی کرتا رہا ہے۔کبھی اس نے یہ سوچنے کی زحمت نہیں کی کہ اگر میں وہ نہ بھی ہوتا تو کیا فرق پڑتا، یعنی اس کا وجود کوئی فرق پیدا نہیں کرتا۔ گھڑی کی سوئیاں خود گھومتی رہتی ہیں مگر اس کا دنیا پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اس لئے کہ یہ خود اپنا ہی طواف کرتی رہتی ہیں۔
انسان آخر کیوں سمجھ بیٹھا ہے کہ وہ ہے۔ہر انسان اپنے آپ سے پوچھے کہ اس کے ہونے کی دلیل کیا ہے ؟ اس نے کون سا ایساکام کیا کہ اگر وہ نہ ہوتا تو زمانہ رک جاتا۔یہی انسان کے نہ ہونے کی ایک بڑی دلیل ہے انسان کاموثر نہ ہونا۔ یا میرے لحاظ سے نہ ہونا۔وہ جنھوں نے آدھی دنیا فتح کی تھی میں اُن سے بھی یہی سوال کرتا ہوں کہ اگر آپ دنیا میں نہ آئے ہوتے تو کیا فرق پڑ جاتا۔جس دنیا کو آپ نے فتح کیا وہاں تو پہلے بھی حکومت موجود تھی ،لوگ بھی رہتے تھے شاید آپ کے حکومت سے بہتر انتظام تھا۔آپ نے ایسا نیا کیا کیا،آپ قصر شام دیکھئے اور بتائیں اگر وہ نہ ہوتے تو کیا زیادہ اچھانہ ہوتا
یعنی ایک وجود میں نہ ہونا ہے اور ایک وجود میں ہونا ہے۔اور ایک وہ وجود ہے جو نہ ہونے سے بھی بُرا ہے۔یہ تو بہت بُری بات ہے کہ لوگ آپ کے نا موجود ہونے کی آرزو کریں۔یہ تو نا موجود نہیں بلکہ ’’نا نا موجود ‘‘ ہے،۔ ڈبل نا موجود ۔میرے لحاظ سے موجود وہ ہے جو ’’با کرامت‘‘ ہے۔اُس کی زندگی با کرامت ہے، اس کی موت با کرامت،۔وہ، وہ ہے جس سے ہر دور کا انسان فیضیاب ہو، وہ وہ ہے جس نے اپنے وجود کو وجود باری میں ضم کر دیا ہے۔اب وجود ِباری کی ذمہ داری ہے کہ اسے ہمیشہ زندہ رکھے۔یہ وہ وجود ہے جس کے ہونے اور نہ ہونے دونوں سے فرق پڑتا ہے۔یہ اس عمل انگیز کی مانند ہے جس کے بغیر نبض دنیا رُک جاتی ہے۔حرارت ختم ہوجاتی ہے ،مکمل تباہی مقدر بن جاتی ہے، یہ ہے ’’حسین''
حسین ایک ایسا با کرامت فرد تھا جس کا وجود حق اور نا حق کی کسوٹی قرار پایا۔یہ وہ با ارادہ شخص تھا جس نے تمام انسانوں کو اپنے ارادوں کا مالک و مختار بنا دیا۔
خدا نے ہر انسان میں کرامت کا جوہر پیدا کیا ہے،کوئی اسے پروان چڑھاتا ہے اور کوئی اسے اپنے وجود سے نکال باہر کرتا ہے۔۔
اگر آپ دیکھنا چاہیں کہ آپ با کرامت ہیں یا نہیں تو دیکھیں کہ جب حق پائمال ہوتا ہے تو آپ کا دل کتنا دکھتا ہے۔میں تو ان لوگوں کی بات ہی نہیں کر رہا جو خود دوسروں کا حق پائمال کر چکے ہیں۔وہ تو ہیں ہی ’’ضال ‘‘ اور ’’مغضوب ‘‘ ۔ میں ان لوگوں کی بات کر رہاہوں جو ابھی کچھ اپنی فطرت پر باقی ہیں۔
ہمیں چائیے کہ دنیا میں کم از کم ایسا کام ضرور کریں کہ جب یہاں سے جائیں تو خدا کے سامنے سرخرو ہوں اور دنیا میں بھی لوگ آپ کے لئے دعائے مغفرت کریں
آج پھر سفر درپیش ہے۔ کون سا سفر ؟آج تک انسان خود سے خود تک کا سفر ہی کرتا رہا ہے۔کبھی اس نے یہ سوچنے کی زحمت نہیں کی کہ اگر میں وہ نہ بھی ہوتا تو کیا فرق پڑتا، یعنی اس کا وجود کوئی فرق پیدا نہیں کرتا۔ گھڑی کی سوئیاں خود گھومتی رہتی ہیں مگر اس کا دنیا پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اس لئے کہ یہ خود اپنا ہی طواف کرتی رہتی ہیں۔
انسان آخر کیوں سمجھ بیٹھا ہے کہ وہ ہے۔ہر انسان اپنے آپ سے پوچھے کہ اس کے ہونے کی دلیل کیا ہے ؟ اس نے کون سا ایساکام کیا کہ اگر وہ نہ ہوتا تو زمانہ رک جاتا۔یہی انسان کے نہ ہونے کی ایک بڑی دلیل ہے انسان کاموثر نہ ہونا۔ یا میرے لحاظ سے نہ ہونا۔وہ جنھوں نے آدھی دنیا فتح کی تھی میں اُن سے بھی یہی سوال کرتا ہوں کہ اگر آپ دنیا میں نہ آئے ہوتے تو کیا فرق پڑ جاتا۔جس دنیا کو آپ نے فتح کیا وہاں تو پہلے بھی حکومت موجود تھی ،لوگ بھی رہتے تھے شاید آپ کے حکومت سے بہتر انتظام تھا۔آپ نے ایسا نیا کیا کیا،آپ قصر شام دیکھئے اور بتائیں اگر وہ نہ ہوتے تو کیا زیادہ اچھانہ ہوتا
یعنی ایک وجود میں نہ ہونا ہے اور ایک وجود میں ہونا ہے۔اور ایک وہ وجود ہے جو نہ ہونے سے بھی بُرا ہے۔یہ تو بہت بُری بات ہے کہ لوگ آپ کے نا موجود ہونے کی آرزو کریں۔یہ تو نا موجود نہیں بلکہ ’’نا نا موجود ‘‘ ہے،۔ ڈبل نا موجود ۔میرے لحاظ سے موجود وہ ہے جو ’’با کرامت‘‘ ہے۔اُس کی زندگی با کرامت ہے، اس کی موت با کرامت،۔وہ، وہ ہے جس سے ہر دور کا انسان فیضیاب ہو، وہ وہ ہے جس نے اپنے وجود کو وجود باری میں ضم کر دیا ہے۔اب وجود ِباری کی ذمہ داری ہے کہ اسے ہمیشہ زندہ رکھے۔یہ وہ وجود ہے جس کے ہونے اور نہ ہونے دونوں سے فرق پڑتا ہے۔یہ اس عمل انگیز کی مانند ہے جس کے بغیر نبض دنیا رُک جاتی ہے۔حرارت ختم ہوجاتی ہے ،مکمل تباہی مقدر بن جاتی ہے، یہ ہے ’’حسین''
حسین ایک ایسا با کرامت فرد تھا جس کا وجود حق اور نا حق کی کسوٹی قرار پایا۔یہ وہ با ارادہ شخص تھا جس نے تمام انسانوں کو اپنے ارادوں کا مالک و مختار بنا دیا۔
خدا نے ہر انسان میں کرامت کا جوہر پیدا کیا ہے،کوئی اسے پروان چڑھاتا ہے اور کوئی اسے اپنے وجود سے نکال باہر کرتا ہے۔۔
اگر آپ دیکھنا چاہیں کہ آپ با کرامت ہیں یا نہیں تو دیکھیں کہ جب حق پائمال ہوتا ہے تو آپ کا دل کتنا دکھتا ہے۔میں تو ان لوگوں کی بات ہی نہیں کر رہا جو خود دوسروں کا حق پائمال کر چکے ہیں۔وہ تو ہیں ہی ’’ضال ‘‘ اور ’’مغضوب ‘‘ ۔ میں ان لوگوں کی بات کر رہاہوں جو ابھی کچھ اپنی فطرت پر باقی ہیں۔
ہمیں چائیے کہ دنیا میں کم از کم ایسا کام ضرور کریں کہ جب یہاں سے جائیں تو خدا کے سامنے سرخرو ہوں اور دنیا میں بھی لوگ آپ کے لئے دعائے مغفرت کریں
نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
جواب دیںحذف کریںڈ بویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
ہوا جب غم سے یوں بے حِس تو غم کیا سر کے کٹنے کا
نہ ہوتا گر جدا تن سے تو زانو پر دھرا ہوتا
ہوئی مدت کہ غالب مرگیا، پر یاد آتا ہے
وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا
(فاخر کے "خود سے خود تک " کے جواب میں
ماشاءاللہ بہت گہرائی کی باتیں نہایت سادہ انداز میں بیان کر دیتے ہیں.
جواب دیںحذف کریں