حضرت علی علیہ السلام کی شہادت

فاخر رضا

ضربت امام علی علیہ السلام

انیسویں  شب کو آپ اپنی دختر نیک اختر حضرت ام کلثوم ؑ کے ہاں  تشریف فرما تھے۔ انہوں  نے جو کی دو روٹیاں  ایک پیالہ دودھ کا اور ایک طشتری میں  نمک رکھ کر پیش کیا۔ آپ نے اس کھانے کو دیکھا تو فرمایا: میں  نے رسول خدا کی پیروی میں  کبھی گوارا نہیں  کیا ایک وقت میں  دسترخوان پر دو قسم کی چیزیں  ہوں، اے میری بیٹی! دنیا کے حلال میں  حساب ہے اور حرام میں  عقاب ہے، بیٹی کیا تم چاہتی ہو کہ تمہارا باپ زیادہ دیر تک موقف حساب میں  کھڑا رہے؟ لہٰذا ان دو چیزوں  میں  سے ایک چیز کا اٹھا لو، جناب ام کلثوم نے دودھ کا پیالہ اٹھالیا اور آپ نے چند لقمے نمک کے ساتھ تناول فرمائے، کھانے سے فارغ ہوکر حسب معمول مصلائے عبادت پر کھڑے ہوگئے، صواعق محرقہ ص۴۳۱ میں  ہے آج بار بار صحن میں  نکلتے، آسمان پر نظر کرتے اور ڈوبتے اور جھلملاتے ہوئے ستاروں  کو دیکھتے اور فرماتے: ’’وَاللّٰہِ مَا کَذِبْتُ وَلَا کُذِّبْتُ  اِنَّھَا اللَّیْلَۃُ الَّتِیْ وُعِدْتُّ بِھَا‘‘
خدا کی قسم میں  جھوٹ نہیں  کہتا اور نہ مجھے غلط بتایا گیا ہے، یہ وہی رات ہے جس کا مجھ سے وعدہ کیا گیا ہے۔
آپ کرب و اضطراب کی حالت میں  کبھی سورہ یاسین کی تلاو ت کرتے، کبھی ’’اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ‘‘ اور کبھی ’’لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْم‘‘ پڑھتے اور کبھی کہتے: ’’اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لِیْ فِی الْمَوْتِ‘‘ خدایا! میری موت کو میرے لیے بابرکت قرار دے۔ جب جناب ام کلثوم ؑ نے یہ کیفیت دیکھی تو عرض کیا: ’’بابا! آج آپ اتنے پریشان حال کیوں  ہیں؟‘‘ فرمایا:’’بیٹی! آخرت کی منزل درپیش ہے اور میں  اللہ کی بارگاہ میں  جانے والا ہوں!‘‘
جناب ام کلثوم ؑ نے آنکھوں  میں  آنسو بھر کر کہا: بابا! آج آپ مسجد میں  تشریف نہ لے جائیں، کسی اور کو حکم دیجئے کہ وہ نماز پڑھادے! فرمایا: ’’لَا مَفَرَّ مِنْ قَضَآء اللّٰہِ‘‘ قضائے الٰہی سے بچ نکلنے کی کوئی صورت نہیں  ہے۔
ابھی کچھ رات باقی تھی کہ ’’ابن ثباج‘‘ موذن نے حاضر ہو کر نماز کے لیے عرض کیا، آپؑ مسجد کے ارادے سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ جب صحن خانہ میں  آئے تو گھر میں  پلی ہوئی بطخوں  نے اپنے پر پھڑپھڑائے اور چیخنے چلانے لگیں۔ کسی نے انہیں  آپ ؑ سے ہٹانا چاہا تو فرمایا کہ انہیں  اپنے حال پر چھوڑ دو، ابھی کچھ دیر کے بعد نوحہ و بکا و نالہ و شیون کی آوازیں  بلند ہوں  گی، پوچھا گیا: بابا! آج آپ کیسی باتیں  کررہے ہیں؟ فرمایا: ’’کلمہ حق تھا جو میری زبان پر جاری ہوگیا ہے‘‘ پھر ام کلثوم سے فرمایا:بیٹی! یہ بے زبان جانور ہیں۔ان کے آب و دانہ کا خیال رکھنا، اگر ایسا نہ کرسکو تو انہیں  رہا کردینا تاکہ زمین میں  چل پھر کر اپنا پیٹ پال سکیں، جب دروازہ کے قریب پہنچے تو پٹکا کمر میں  کس کر باندھااور احیحہ انصاری کے یہ دو شعر پڑھے:
اُشْدُدْ حَیَازِیْمَکَ لِلْمَوْتِ فَاِنَّ الْمَوْتَ لَاقِیْکَ
موت کے لیے کمر کس لو اس لیے کہ موت تمہارے سامنے آنے والی ہے۔
وَ لَا  تَجْزَعْ  مِنَ  الْمَوْتِ  اِذَا  حَلَّ  بِوَادِیْکَ
جب موت تمہارے ہاں  ڈیرے ڈال لے تو اس پر بیتابی کا مظاہرہ نہ کرو۔
جناب ام کلثوم ؑ نے آنسو بہاتے ہوئے اپنے باپ کو الوداع کیا، امام حسن ؑ نے چاہا کہ مسجد تک حضرت ؑ کے ہمرکاب جائیں  مگر آپ ؑ نے منع کردیا، جب آپ ؑ مسجد میں  تشریف لائے تو مسجد تاریکی میں  ڈوبی ہوئی تھی، آپ ؑ نے مسجد میں  چند رکعت نماز پڑھی اور تعقیبات سے فارغ ہوئے تو خونریز سحر نمودار ہوچکی تھی، آپ ؑ گلدستہ اذان پر تشریف لے گئے اور صبح کی اذان دی، یہ آپ ؑ کی آخری اذان تھی جو مسجد سے بلند ہوئی اور کوفہ کے ہر گھر میں  سنی گئی اور اذان کے بعد اَلصَّلوٰۃَ اَلصَّلوٰۃ کہہ کر لوگوں  کو نماز صبح کے لیے بیدار کرنے لگے، انہی لوگوں  میں  ابن ملجم بھی تھا، اسے اوندھا لیٹے ہوئے دیکھا تو فرمایا یہ شیطان کے سونے کا انداز ہے، دا  ہنی کروٹ سوو? جو مومنین کا شعار ہے، یا بائیں  طرف لیٹو جو حکماء کا طریقہ ہے، یا پیٹھ کے بل سو جو انبیاء ؑ کا طرزِ عمل ہے، اٹھ اور نماز پڑھ۔
حضرت لوگوں  کو بیدار کرنے کے بعد محراب عبادت میں  کھڑے ہوگئے اور جب نافلہ صبح کی پہلی رکعت کے سجدہ سے سر اٹھایا تو شبیب بن بجرہ نے تلوار سے حملہ کیا مگر تلوار ستونِ مسجد سے ٹکرائی اور اس کا وار ناکام رہا۔ پھر ابن ملجم نے زہر میں  بجھی ہوئی تلوار سر پر ماری جس سے فرق مبارک شگافتہ ہو گیا، آپ نے بیساختہ فرمایا: ’’فُزْتُ وَ رَبِّ الْکَعْبَہِ‘‘ رب کعبہ کی قسم میں  کامیاب ہوگیا ہوں، لوگو! مجھے یہودیہ کے بیٹے ابن ملجم نے قتل کرڈالا۔
امام بمنزلہ روح کائنات اور جان عالم ہوتا ہے، جب جان پر بنتی ہے تو اعضاء متاثراور مضمحل ہوئے بغیر نہیں  رہتے، چنانچہ اس موقعہ پر آسمان کا نپا، زمین لرزی مسجد کے در وازے آپس میں  ٹکرائے اور زمین و آسمان کے درمیان یہ آواز گونجی:
’’تَھَدَّمَتْ وَاللّٰہِ اَرْکَانُ الْھُدیٰ، قُتِلَ ابْنُ عَمِّ الْمُصْطَفیٰ، قُتِلَ وَصِیُّ الْمُجْتَبیٰ، قُتِلَ عَلِیٌّ الْمُرْتَضیٰ‘‘ خدا کی قسم رکنِ ہدایت گر گئے، رسول خدا کے ابن عم قتل کردئیے گئے، وصی پیغمبر مارے گئے، علی مرتضیٰ ؑ شہید کردئیے گئے۔
اس آواز نے کوفہ کی آبادی کو لرزا دیا۔ تمام شہر کانپ اٹھا۔ لوگ جوق در جوق گھروں  سے نکل آئے۔ امام حسن و حسین علیہما السلام سراسیمہ اور پریشان حال مسجد کی طرف دوڑے جہاں  لوگ پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے اور چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ امیرالمومنین ؑ شہید کردئیے گئے!! فرزندان رسول ؐ نے آگے بڑھ کر دیکھا کہ محراب لہو سے تر ہے اور ایمان مجسم خاک و خون میں  غلطان ہے اور امام معظم مٹی اٹھا اٹھا کر فرق مبارک پر ڈالتے اور سورہ طہ کی آیت۵۵ کی تلاوت فرماتے جاتے تھے: ’’مِنْھَا خَلَقْنَاکُمْ وَ فِیْھَا نُعِیْدُکُمْ وَ مِنْھَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْریٰ‘‘ ہم نے تمہیں  زمین سے پیدا کیا اور زمین کی طرف پلٹائیں  گے اور اسی سے دوبارہ نکالیں  گے۔
امیرالمومنین کے سر و صورت کو خون میں  رنگین دیکھ کر امام حسن علیہ السلام نے گلوگیر آواز میں  کہا: بابا! آپ ؑ کا خون کس نے بہایا ہے؟ حضرت ؑ نے فرمایا: بیٹا! پہلے نماز ادا کرو، چنانچہ امام حسن مجتبیٰ  ؑ نے نماز پڑھائی، نماز سے فارغ ہونے کے بعد حضرت ؑ کو محراب مسجد سے صحن میں  لایا گیا، اس وحشت ناک خبر کو سن کر لوگ سمٹ کر مسجد میں  جمع ہوچکے تھے، ہر چشم اشکبار اور ہر دل غم سے فگار تھا۔
 نقل از:سیرت چہاردہ معصومین(ع)تالیف علامہ محمد علی فاضل مدظلہ العالی)


فاخر رضا

بلاگر

میرا تعارف!

0 تبصرے :

ایک تبصرہ شائع کریں