اچھی باتیں

فاخر رضا
‏انسان اشیا کی قیمت کا تعین کرتا ہے، پھر اشیا انسان کی قیمت کیسے ہوسکتی ہیں۔ انسان تو انمول ہے اور اس کی
قیمت رضائے الٰہی ہے۔ یا کم از کم جنت

‏علم الفاظ کا ذخیرہ ہے ، عشق جذبات کا ذخیرہ ہے اور عقل
وہ ترازو ہے جو ان دونوں کو تول کر بتاتا ہے کتنا اٹھانا ہے کتنا چھوڑ دینا ہے ۔ ۔۔

‏زمین پرموجودات کی قدر وقیمت انسان مقرر کرتا ہے.کیا انسان کی قدر و قیمت یہ سب چیزیں ہو سکتی ہے.انسان وہ میزان ہے جس پر سب چیزیں تولی جاتی ہیں

کہتے ہیں ایک بیدار دل نے گناہ کے بعد توبہ کر لی تھی لیکن ہمیشہ روتا رہتا تھا. لوگوں نے اس سے کہا کہ اتنا کیوں روتا ہے، کیا جانتا نہیں کہ خداوند عالم معاف کرنے والا ہے. اسنے کہا ہاں ممکن ہے خداوند عالم معاف کردے، لیکن یہ خجالت و شرمساری کہ اس نے مجھے گناہ کرتے ہوئے دیکھ لیا ہے اسے خود سے کیسے دور کروں.
گیرم کہ تو از سر گناہ درگزری
زان شرم کہ دیدی کہ چہ کردم چکنم؟
میں نے مانا کہ تو میرے گناہ کو ضرور معاف کر دے گا
لیکن اس شرم کا کیا کروں کہ تو نے دیکھ لیا ہے کہ میں نے کیا کیا ہے 

فاخر رضا

بلاگر

میرا تعارف!

0 تبصرے :

ایک تبصرہ شائع کریں