عراق کا سفر
یہ سفر ایک عام سفر نہیں تھا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ میں اب تک ایران کا متعدد بار سفر کر چکا تھا۔ مکہ اور مدینہ بھی بہت دفعہ زیارت کرچکاتھا۔ شام بھی جاچکاتھا۔ پھر آج تک کربلا کیوں نہیں گیا اور اب کی بار ایسی کیا بات ہوئی کہ کربلا جائے بغیر نہ بن سکی۔
میں اپنی چھٹیاں لے چکا تھا اور اس کی وجہ بھی صاف ظاہر ہے۔ میں تقریباََ ہر دوماہ بعدکراچی اپنے والد اور والدہ کی زیارت کے لئے جاتا ہوں اور اس بار بھی یہی ارادہ تھا۔ پیسے بھی بہت کم تھے، اور یہ کوئی نئی بات نہیںتھی۔ اکثر میں خودپر یہ خودساختہ غربت تاری کرتارہتاہوں اور اس بار بھی تقریباََایسی ہی وجوہات تھیں۔ وہ کیا وجوہات تھیں اور ہیںاسکاذکر مناسب نہیں۔
ایسے میں ، میں نے ایک خواب دیکھا۔ آپ کہیںگے کہ جوشخص خوابوںکامذاق اڑاتاہووہ کیسے خواب کاذکر کررہاہے۔ تو جناب وہ خواب ہی ایساتھا۔ ایسا خواب جس کا مجھے مدت سے انتظار تھا۔ میں نے دیکھا کہ میں کربلا پہنچ گیا ہوںاور ایک ہوٹل میںہوں۔ ایسے میں ،میںاپنے ساتھیوںسے کہتاہوںکہ مجھے امام حسین ؑکی قبرکی زیارت کے لئے جاناچاہتاہوں۔ وہ مجھے راستہ بتادیتے ہیں۔ میں ہوٹل سے نکل کر ایک اور عمارت میں داخل ہوجاتا ہوں۔پھر وہاںسے نکل کر دوسری اور اسی طرح پھرتا رہتا ہوں مگر حرم تک نہیں پہنچ پاتا۔ اس خواب کا میرے حواس پر بہت اثر ہوا۔ مگر کچھ دنوں میں یہ اثر زائل ہونے لگا۔ اس کے کچھ دنوںبعدایک اور خواب دیکھا۔ وہ تو ایسا تھا کہ میں ہل کر رہ گیا۔ میں نے خواب میں مسجد سہلہ کی زیارت کی۔ اس میں جگہ جگہ نماز پڑہی اور اس پر لکھا نام بھی دیکھا۔ مختلف نبیوں کے مقامات دیکھے۔ جب آنکھ کھلی تو ایک اور ہی کیفیت تھی۔ ایسے میں اپنے دوستوں سے کراچی میں رابطہ کیا کہ عراق کا ویزہ لگوا دیں۔ سب نے یہی کہا کہ تین ہفتے لگیںگے۔ یعنی میری پوری چھٹیاں ختم ہوجاتیں پھر بھی ویزہ نہیں آتا۔ پھر اپنے ایک دوست، محسن، عالم دین اور دین کا درد رکھنے والے مجاہد، محمد علی تقوی بھائی سے رابطہ کیا۔ وہ اس وقت عراق میں تھے۔ ان کے ذریعے کچھ طلاب کی عنایت کے سبب آخرکار اپنے پرانے واقف کار مولانا مجیر میثمی سے رابطہ ہوا۔انہوں نے تمام کاغذات اسکین کرکے منگوائے۔ بالآخر تین چار دن میں ویزہ کی رسید آگئی اور دو تین دن میں عراق کا ویزہ لگ گیا۔ کریڈٹ کارڈ سے ٹکٹ بک کروائے اور صرف اکیلانہیں بلکہ اپنی بیوی اور چاروں بچوں کے ساتھ عراق کے لئے روانہ ہوئے۔ ان دنوں میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے ذریعے جو معلومات حاصل کرسکتے تھے وہ کیں اور کچھ پرنٹ آؤٹ نکالے۔ ایئرپورٹ پر پہنچے تو ایک اور تماشہ ہوا۔ سب کے نام میچ کرگئے سوائے ایک بچے کے۔ جمعہ کا دن اور اس دن ایمبیسی بھی بند۔ بحرحال عراق فون کیا مجیر بھائی کو۔ انہوں نے دعا شروع کی۔ فلائٹ سے ۴۵ منٹ پہلے ہمیں اجازت ملی کی آپ اپنے رسک پر سفر کرسکتے ہیں۔
خیر یہاں سے آگے جو ہوا وہ ایسا ہے کہ آپ سوچ نہیں سکتے۔ نجف ایئر پورٹ پر ایک شخص ہمارا منتظر تھا۔ اس نے فٹافٹ ہمارے کام کروائے اور ہمیں فوراََاپنے سامان تک پہنچا دیا۔ باہر مجیر بھائی ایک وین کے ساتھ ہمارے منتظر تھے۔ اس میں ہمیں بٹھا کر ہوٹل پہنچادیا۔ عراقی سم دیدی اور کھانے کا انتظام کردیا۔ ہم فریش ہوئے تو مجیر بھائی ہمیں امام علی علیہ السلام کی زیارت کرانے لے گئے۔اگلے دو دن تک ہمارے ساتھ وہی وین رہی اور ایک عالم دین بھی رہے جو تمام زیارات جن میں کوفہ، نجف اور دیگر زیارات شامل ہیں کراتے رہے۔ پھر اسی وین میں ہم نے سامرہ اور کاظمین کی بھی زیارات کیں۔ اسی میں عالم دین کے ساتھ کربلا پہنچے اور چھ دن وہاں رہے۔ پھر مجیر بھائی نے ہمیں کربلاسے لیا اور نجف ایئرپورٹ پہنچا دیا۔ آپ یقینا سمجھ گئے ہونگے کہ ہمارے ساتھ یہ وی آئی پی ٹریٹمینٹ کیوں ہوا۔ اس لئے کہ ہم کوئی عام زائر نہیں تھے۔ ہمیں باقاعدہ بلایا گیا تھا۔ اور ہمیں دعوت وہاں کی گورنمنٹ نے دی تھی۔ کونسی گورنمنٹ، جی ہاں امام حسین علیہ السلام کی حکومت۔ کربلا میں امام حسین اور حضرت عباس ہی کہ حکومت ہے۔ ہمیں انہوں نے ہی بلایا تھا اور ہمارا انتظام بھی انہوں نے ہی کیا تھا۔
اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے جو لکھنا ہے۔ انشاء اللہ۔
اب کچھ آگے کا احوال سنیں ، صرف وہ لوگ سنیں جنہیں سننے کا حوصلہ ہو ورنہ یہیں سے پلٹ جائیں۔
نجف ایئر پورٹ پر تعمیر کا کام جاری تھا۔ وہیں چیکنگ بھی سخت تھی۔ وہاں سے نکل کر کئی چیک پوسٹوں سے ہوتے ہوئے نجف میں اپنے ہوٹل سے کچھ فاصلے پر اتر گئے۔ وہاںعراقی بچے ہاتھوں میں ریڑھے لئے کھڑے تھے۔جھٹ ہمارا سامان انہوںنے اس پر رکھااورہمیں ہوٹل تک پہنچایا۔ وہاںاس طرح کے اور بہت سے بچے نظرآئے۔ وہ سب دیکھ کر ہی لگ رہا تھا کہ بہت مجبور ہیں جو اسکول کی بجائے محنت کررہے ہیں۔ہر ہر جگہ بچے محنت کرتے نظرآئے۔ کہیںہوٹل پر کام کرتے، کہیںکوئی چیزبیچتے اور کہیںسامان ڈھوتے۔
میںنجف میں اپنے کچھ دوستوںسے ملنے ان کے رہائش گاہ گیا۔ وہاں وہ ایک نہایت خستہ حالت میں ایک بہت پرانی عمارت میںمکین تھے۔ وہاں کی حالت بیان سے باہر ہے۔ ایسا لگ رہاتھاکہ کسی بھی وقت گرجائے گی۔ گلیوں کی حالت بھی بہت خراب، ٹوٹی پھوٹی، اور خراب حالت میں۔ ایک دوست کے گھر گیاتو وہاںپرپہنچنے تک جن راستوں سے گزرا تو ایسا محسوس ہوا کہ کسی نہایت قدیم زمانے کے محلے میںآگیا ہوں۔ اس جگہ کو دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔ وہاں طلاب کے علاج معالجے کی سہولیات بھی بہت کم تھیں اور جو ڈاکٹر موجود ہیں وہ بھی زبان نہ جاننے والوں کا کیا حال کرتے ہیں وہ بھی بہت سے دوستوں سے سننے کا موقع ملا۔ ہر طالبعلم مجھے بیچین اور پریشان نظر آیا۔ ہر ایک کسی نہ کسی پریشانی کا شکار۔ کچھ کی حالت اچھی بھی ملی مگر اس کے لئے انہیںپڑہائی کے ساتھ یا اسے چھوڑ کر زائرین کی خدمت کرکے ان سے امید لگانی پڑتی ہے۔ وہ پورا پورا دن یا آدھا دن بھی زائرین کے ساتھ لگانے کو تیار رہتے ہیں۔
میں جن دوستوں سے ملا ان میں زیادہ تر اپنی پڑہائی سے بہت مخلص اور دین کا درد رکھنے والے تھے۔ ان سے ملکر بہت خوشی ہوئی۔
ایک مجتہد کے آفس جانے کا موقع ملا۔وہاں جاکر اندازہ ہوا کہ مسائل کتنے گھمبیر اور کس درجہ کے ہیں۔ وہاں سے مایوس واپس آیا اور اپنے امام کو پہلی مرتبہ دل سے بلایا۔ بلکہ اگر یوں کہوں کہ مجھے اس سفر کا حاصل مل گیا تو غلط نہیں ہوگا۔ مجھے کچھ باتوں پر یقین آگیا۔
پہلی بات یہ کہ گڑبڑ جس سطح پر ہے اس کا حل صرف امام زمانہ کے پاس ہے۔ ہم جیسے کے بس کی یہ بات نہیں۔ بلکہ اگر ہم اعتراض بھی کریں تو وہ لایعنی ہوگا۔ اتنے بڑے بڑے لوگوں کی دکانوںپر ہم جیسے کا اعتراض ایسے ہی ہے جسے آسمان کی طرف منہ کرکے تھوکنا۔ لہذا اس کا حل صرف امام زمانہ ہی نکال سکتے ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ ہمیں متقی، بابصیرت، سمجھدار اور حالات حاضرہ سے آگاہ اور اس کی اصلاح کا جذبہ رکھنے والے مراجع کرام کی ضرورت ہے۔ ہمارے معاشرے خاص کر پاکستان میں ایسے کوئی شخصیت نظر نہیں آتی جو اس پائے کے عالم ہوں جو مراجع کرام کا ہونا چاہیے۔
تیسری بات یہ ہے کہ ہم جس سطح پر کام کرسکتے ہیں اس سطح پر کام ضرور کرنا چاہئے۔ مثلاََ اگر ہم ان کے میڈیکل کے مسائل حل کرسکتے ہیں تو وہ کرنے چاہیئں۔ سارے خمس لے جاکر مجتہد کے ہاتھ میں رکھ کر اور اس سے رسید حاصل کرکے ہماری ذمے داری پوری نہیں ہوتی۔ بالکل اسی طرح جس طرح تشخیص کے بعد دوا خرید کر ہماری ذمے داری ختم نہیں ہوتی بلکہ وہ دوا مریض کے پیٹ میں جانے سے صحتیابی ہوتی ہے اسی طرح مجتہد تک پیسے پہنچانے سے کام نہیں چلے گا۔ وہ پیسے مصارف پر خرچ ہونے چاہیئں ان پر خرچ ہونے پر ہی ہماری خلاصی ہوسکتی ہے۔
وہ ملک جو تیل کی پیداوار سے مالامال ہو، جہاں کے مراجع کے پاس پوری دنیا سے خمس آتاہو، اگر وہاں کے بچوں کی یہ حالت ہے اور وہاں کےطلاب کی یہ حالت ہے تو یقین رکھیں پاکستان میں بھی کبھی حالات اچھے نہیں ہوسکتے۔ اگر یہاں بھی تیل نکل آئے یا چین یہاں دودھ کی نہریں بہادے اس کے باوجود غریب،غریب ہی رہے گا۔ اس لئے کہ کرپشن کرنے والا کی تھالی پے پیندے کی ہوتی ہے وہ کبھی نہیں بھرتی۔
ایک بات یہ بھی ہے کہ صرف اپنے حجرے میں بیٹھ کر تقویٰ کا درس دینے سے جان نہیں بچ سکتی۔ آپ کی ناک کے نیچے آپ کے رفقائے کار جو کرپشن کررہے ہیں وہ بھی آپ کی شخصیت اور نام استعمال کرکے اس کا آپ کو بھی حساب دینا پڑے گا۔
قوم کو اب جاگنا ہے اور تقدس مآبی کو کنارے لگا کر آواز بلند کرنی ہے۔ اب عبا قبا کا اسی وقت احترام ہوگا جب اس کے ساتھ لوگوں کے مسائل بھی حل ہونگے۔
جب آپ کو ایک شخص موٹا نظر آئے تو سمجھ جائیں کہ کہیں نہ کہیں کوئی نا کوئی بھوکا سو رہاہے۔
اب امام حسین سے درس لینے کا وقت آگیا ہے اور اگر یہ نہ کیا تو پھر ایک ہزار دفعہ زیارت کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہے۔
یہ سفر ایک عام سفر نہیں تھا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ میں اب تک ایران کا متعدد بار سفر کر چکا تھا۔ مکہ اور مدینہ بھی بہت دفعہ زیارت کرچکاتھا۔ شام بھی جاچکاتھا۔ پھر آج تک کربلا کیوں نہیں گیا اور اب کی بار ایسی کیا بات ہوئی کہ کربلا جائے بغیر نہ بن سکی۔
میں اپنی چھٹیاں لے چکا تھا اور اس کی وجہ بھی صاف ظاہر ہے۔ میں تقریباََ ہر دوماہ بعدکراچی اپنے والد اور والدہ کی زیارت کے لئے جاتا ہوں اور اس بار بھی یہی ارادہ تھا۔ پیسے بھی بہت کم تھے، اور یہ کوئی نئی بات نہیںتھی۔ اکثر میں خودپر یہ خودساختہ غربت تاری کرتارہتاہوں اور اس بار بھی تقریباََایسی ہی وجوہات تھیں۔ وہ کیا وجوہات تھیں اور ہیںاسکاذکر مناسب نہیں۔
ایسے میں ، میں نے ایک خواب دیکھا۔ آپ کہیںگے کہ جوشخص خوابوںکامذاق اڑاتاہووہ کیسے خواب کاذکر کررہاہے۔ تو جناب وہ خواب ہی ایساتھا۔ ایسا خواب جس کا مجھے مدت سے انتظار تھا۔ میں نے دیکھا کہ میں کربلا پہنچ گیا ہوںاور ایک ہوٹل میںہوں۔ ایسے میں ،میںاپنے ساتھیوںسے کہتاہوںکہ مجھے امام حسین ؑکی قبرکی زیارت کے لئے جاناچاہتاہوں۔ وہ مجھے راستہ بتادیتے ہیں۔ میں ہوٹل سے نکل کر ایک اور عمارت میں داخل ہوجاتا ہوں۔پھر وہاںسے نکل کر دوسری اور اسی طرح پھرتا رہتا ہوں مگر حرم تک نہیں پہنچ پاتا۔ اس خواب کا میرے حواس پر بہت اثر ہوا۔ مگر کچھ دنوں میں یہ اثر زائل ہونے لگا۔ اس کے کچھ دنوںبعدایک اور خواب دیکھا۔ وہ تو ایسا تھا کہ میں ہل کر رہ گیا۔ میں نے خواب میں مسجد سہلہ کی زیارت کی۔ اس میں جگہ جگہ نماز پڑہی اور اس پر لکھا نام بھی دیکھا۔ مختلف نبیوں کے مقامات دیکھے۔ جب آنکھ کھلی تو ایک اور ہی کیفیت تھی۔ ایسے میں اپنے دوستوں سے کراچی میں رابطہ کیا کہ عراق کا ویزہ لگوا دیں۔ سب نے یہی کہا کہ تین ہفتے لگیںگے۔ یعنی میری پوری چھٹیاں ختم ہوجاتیں پھر بھی ویزہ نہیں آتا۔ پھر اپنے ایک دوست، محسن، عالم دین اور دین کا درد رکھنے والے مجاہد، محمد علی تقوی بھائی سے رابطہ کیا۔ وہ اس وقت عراق میں تھے۔ ان کے ذریعے کچھ طلاب کی عنایت کے سبب آخرکار اپنے پرانے واقف کار مولانا مجیر میثمی سے رابطہ ہوا۔انہوں نے تمام کاغذات اسکین کرکے منگوائے۔ بالآخر تین چار دن میں ویزہ کی رسید آگئی اور دو تین دن میں عراق کا ویزہ لگ گیا۔ کریڈٹ کارڈ سے ٹکٹ بک کروائے اور صرف اکیلانہیں بلکہ اپنی بیوی اور چاروں بچوں کے ساتھ عراق کے لئے روانہ ہوئے۔ ان دنوں میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے ذریعے جو معلومات حاصل کرسکتے تھے وہ کیں اور کچھ پرنٹ آؤٹ نکالے۔ ایئرپورٹ پر پہنچے تو ایک اور تماشہ ہوا۔ سب کے نام میچ کرگئے سوائے ایک بچے کے۔ جمعہ کا دن اور اس دن ایمبیسی بھی بند۔ بحرحال عراق فون کیا مجیر بھائی کو۔ انہوں نے دعا شروع کی۔ فلائٹ سے ۴۵ منٹ پہلے ہمیں اجازت ملی کی آپ اپنے رسک پر سفر کرسکتے ہیں۔
خیر یہاں سے آگے جو ہوا وہ ایسا ہے کہ آپ سوچ نہیں سکتے۔ نجف ایئر پورٹ پر ایک شخص ہمارا منتظر تھا۔ اس نے فٹافٹ ہمارے کام کروائے اور ہمیں فوراََاپنے سامان تک پہنچا دیا۔ باہر مجیر بھائی ایک وین کے ساتھ ہمارے منتظر تھے۔ اس میں ہمیں بٹھا کر ہوٹل پہنچادیا۔ عراقی سم دیدی اور کھانے کا انتظام کردیا۔ ہم فریش ہوئے تو مجیر بھائی ہمیں امام علی علیہ السلام کی زیارت کرانے لے گئے۔اگلے دو دن تک ہمارے ساتھ وہی وین رہی اور ایک عالم دین بھی رہے جو تمام زیارات جن میں کوفہ، نجف اور دیگر زیارات شامل ہیں کراتے رہے۔ پھر اسی وین میں ہم نے سامرہ اور کاظمین کی بھی زیارات کیں۔ اسی میں عالم دین کے ساتھ کربلا پہنچے اور چھ دن وہاں رہے۔ پھر مجیر بھائی نے ہمیں کربلاسے لیا اور نجف ایئرپورٹ پہنچا دیا۔ آپ یقینا سمجھ گئے ہونگے کہ ہمارے ساتھ یہ وی آئی پی ٹریٹمینٹ کیوں ہوا۔ اس لئے کہ ہم کوئی عام زائر نہیں تھے۔ ہمیں باقاعدہ بلایا گیا تھا۔ اور ہمیں دعوت وہاں کی گورنمنٹ نے دی تھی۔ کونسی گورنمنٹ، جی ہاں امام حسین علیہ السلام کی حکومت۔ کربلا میں امام حسین اور حضرت عباس ہی کہ حکومت ہے۔ ہمیں انہوں نے ہی بلایا تھا اور ہمارا انتظام بھی انہوں نے ہی کیا تھا۔
اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے جو لکھنا ہے۔ انشاء اللہ۔
اب کچھ آگے کا احوال سنیں ، صرف وہ لوگ سنیں جنہیں سننے کا حوصلہ ہو ورنہ یہیں سے پلٹ جائیں۔
نجف ایئر پورٹ پر تعمیر کا کام جاری تھا۔ وہیں چیکنگ بھی سخت تھی۔ وہاں سے نکل کر کئی چیک پوسٹوں سے ہوتے ہوئے نجف میں اپنے ہوٹل سے کچھ فاصلے پر اتر گئے۔ وہاںعراقی بچے ہاتھوں میں ریڑھے لئے کھڑے تھے۔جھٹ ہمارا سامان انہوںنے اس پر رکھااورہمیں ہوٹل تک پہنچایا۔ وہاںاس طرح کے اور بہت سے بچے نظرآئے۔ وہ سب دیکھ کر ہی لگ رہا تھا کہ بہت مجبور ہیں جو اسکول کی بجائے محنت کررہے ہیں۔ہر ہر جگہ بچے محنت کرتے نظرآئے۔ کہیںہوٹل پر کام کرتے، کہیںکوئی چیزبیچتے اور کہیںسامان ڈھوتے۔
میںنجف میں اپنے کچھ دوستوںسے ملنے ان کے رہائش گاہ گیا۔ وہاں وہ ایک نہایت خستہ حالت میں ایک بہت پرانی عمارت میںمکین تھے۔ وہاں کی حالت بیان سے باہر ہے۔ ایسا لگ رہاتھاکہ کسی بھی وقت گرجائے گی۔ گلیوں کی حالت بھی بہت خراب، ٹوٹی پھوٹی، اور خراب حالت میں۔ ایک دوست کے گھر گیاتو وہاںپرپہنچنے تک جن راستوں سے گزرا تو ایسا محسوس ہوا کہ کسی نہایت قدیم زمانے کے محلے میںآگیا ہوں۔ اس جگہ کو دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔ وہاں طلاب کے علاج معالجے کی سہولیات بھی بہت کم تھیں اور جو ڈاکٹر موجود ہیں وہ بھی زبان نہ جاننے والوں کا کیا حال کرتے ہیں وہ بھی بہت سے دوستوں سے سننے کا موقع ملا۔ ہر طالبعلم مجھے بیچین اور پریشان نظر آیا۔ ہر ایک کسی نہ کسی پریشانی کا شکار۔ کچھ کی حالت اچھی بھی ملی مگر اس کے لئے انہیںپڑہائی کے ساتھ یا اسے چھوڑ کر زائرین کی خدمت کرکے ان سے امید لگانی پڑتی ہے۔ وہ پورا پورا دن یا آدھا دن بھی زائرین کے ساتھ لگانے کو تیار رہتے ہیں۔
میں جن دوستوں سے ملا ان میں زیادہ تر اپنی پڑہائی سے بہت مخلص اور دین کا درد رکھنے والے تھے۔ ان سے ملکر بہت خوشی ہوئی۔
ایک مجتہد کے آفس جانے کا موقع ملا۔وہاں جاکر اندازہ ہوا کہ مسائل کتنے گھمبیر اور کس درجہ کے ہیں۔ وہاں سے مایوس واپس آیا اور اپنے امام کو پہلی مرتبہ دل سے بلایا۔ بلکہ اگر یوں کہوں کہ مجھے اس سفر کا حاصل مل گیا تو غلط نہیں ہوگا۔ مجھے کچھ باتوں پر یقین آگیا۔
پہلی بات یہ کہ گڑبڑ جس سطح پر ہے اس کا حل صرف امام زمانہ کے پاس ہے۔ ہم جیسے کے بس کی یہ بات نہیں۔ بلکہ اگر ہم اعتراض بھی کریں تو وہ لایعنی ہوگا۔ اتنے بڑے بڑے لوگوں کی دکانوںپر ہم جیسے کا اعتراض ایسے ہی ہے جسے آسمان کی طرف منہ کرکے تھوکنا۔ لہذا اس کا حل صرف امام زمانہ ہی نکال سکتے ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ ہمیں متقی، بابصیرت، سمجھدار اور حالات حاضرہ سے آگاہ اور اس کی اصلاح کا جذبہ رکھنے والے مراجع کرام کی ضرورت ہے۔ ہمارے معاشرے خاص کر پاکستان میں ایسے کوئی شخصیت نظر نہیں آتی جو اس پائے کے عالم ہوں جو مراجع کرام کا ہونا چاہیے۔
تیسری بات یہ ہے کہ ہم جس سطح پر کام کرسکتے ہیں اس سطح پر کام ضرور کرنا چاہئے۔ مثلاََ اگر ہم ان کے میڈیکل کے مسائل حل کرسکتے ہیں تو وہ کرنے چاہیئں۔ سارے خمس لے جاکر مجتہد کے ہاتھ میں رکھ کر اور اس سے رسید حاصل کرکے ہماری ذمے داری پوری نہیں ہوتی۔ بالکل اسی طرح جس طرح تشخیص کے بعد دوا خرید کر ہماری ذمے داری ختم نہیں ہوتی بلکہ وہ دوا مریض کے پیٹ میں جانے سے صحتیابی ہوتی ہے اسی طرح مجتہد تک پیسے پہنچانے سے کام نہیں چلے گا۔ وہ پیسے مصارف پر خرچ ہونے چاہیئں ان پر خرچ ہونے پر ہی ہماری خلاصی ہوسکتی ہے۔
وہ ملک جو تیل کی پیداوار سے مالامال ہو، جہاں کے مراجع کے پاس پوری دنیا سے خمس آتاہو، اگر وہاں کے بچوں کی یہ حالت ہے اور وہاں کےطلاب کی یہ حالت ہے تو یقین رکھیں پاکستان میں بھی کبھی حالات اچھے نہیں ہوسکتے۔ اگر یہاں بھی تیل نکل آئے یا چین یہاں دودھ کی نہریں بہادے اس کے باوجود غریب،غریب ہی رہے گا۔ اس لئے کہ کرپشن کرنے والا کی تھالی پے پیندے کی ہوتی ہے وہ کبھی نہیں بھرتی۔
ایک بات یہ بھی ہے کہ صرف اپنے حجرے میں بیٹھ کر تقویٰ کا درس دینے سے جان نہیں بچ سکتی۔ آپ کی ناک کے نیچے آپ کے رفقائے کار جو کرپشن کررہے ہیں وہ بھی آپ کی شخصیت اور نام استعمال کرکے اس کا آپ کو بھی حساب دینا پڑے گا۔
قوم کو اب جاگنا ہے اور تقدس مآبی کو کنارے لگا کر آواز بلند کرنی ہے۔ اب عبا قبا کا اسی وقت احترام ہوگا جب اس کے ساتھ لوگوں کے مسائل بھی حل ہونگے۔
جب آپ کو ایک شخص موٹا نظر آئے تو سمجھ جائیں کہ کہیں نہ کہیں کوئی نا کوئی بھوکا سو رہاہے۔
اب امام حسین سے درس لینے کا وقت آگیا ہے اور اگر یہ نہ کیا تو پھر ایک ہزار دفعہ زیارت کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہے۔
0 تبصرے :
ایک تبصرہ شائع کریں