ایک خواب

فاخر رضا
ایک خواب

    کل رات امام  ؑکی ایک حدیث پر غور کرتے کرتے آنکھ لگ گئی۔کیا دیکھتا ہوں کہ ایک عظیم الشان سمندر ہے جس کی حدیں عرش معلیٰ تک ملی ہوئی ہیں اور بے شمار مخلوقات کو سیراب کر رہا ہے۔ میں اس کے بیچ میں کھڑا ہوں۔ نہ لباس تر ہوا ہے اور نہ پیاس ہی بجھی۔سمندر ٹھاٹیں مار رہا ہے۔ کبھی اوپر اُچھال دیتا ہے کبھی نیچے  ڈبو دیتا ہے۔مجھے محسوس ضرور ہو رہاہے کہ سمندر ہے مگر مجھ پر اس کا کوئی اثر نہیں ہو رہا۔صبح اُٹھا تو بہت غور کیا تو شائبہ ہوا کہ شاید یہ میری ہی زندگی سے متعلق ہے۔علم کا ایک سمندر ہے جو ہمارے ارد گرد موجود ہے اور نہ ہم اسے اپنے قریب آنے دیتے ہیں نہ خود اس کی طرف جاتے ہیں
۔گندے جو ہڑوں سے اپنی پیاس بجھاتے ہیں، اس سے اپنے لباس کو پاک کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر اس سمندر سے دور ہیں ۔صرف نظارے کر کے لطف اندوز ہو رہے ہیں ۔جو مشتاق تیراک ہیں وہ اپنی تیراکی کے کارنامے بیان کر رہے ہیں اور ہم محض محو ِ تماشہ ہیں ۔وہ بھی سمندر کا تماشہ نہیں بلکہ اُن کا تماشہ جنھوں نے اس سمندر کا مشاہدہ کیا ہے ۔جیسے پنجاب میں کوئی کراچی سے جا کر اگر سمجھانا چاہے کہ سمندر کتنا بڑا ہے تو وہ بیچارے راوی سے اس کا مقابلہ کررہے ہوتے ہیں ۔سوچتے ہیں شاید راوی سے دس گنا بڑا ہو ، یا سو گنا بڑا  ہوگا،زیادہ سے زیادہ ہزار گنا بڑا ،وہ سمجھ ہی نہیں سکتے کہ سمندر کتنابڑا ہے ۔
    علم کے اس سمندر میں کنارے پر بیٹھا محو حیر ِت ہوں کہ آغاز کہاں سے کروں ۔کہیں فلسفہ کی گونجیں ہیں ،کہیں علم کلام ،کہیں منطق کہیں دیگر درسی کتب۔مگر یہ تمام سمندر مل کر بھی اس سمندر کا مقابلہ نہیں کر سکتےجس کی طرف ہماری توجہ دلائی گئی ہے ۔وہ سمندر جو ہمارے اندر سے پیدا ہوتا ہے اور ان تمام سمندروں پر غالب آجاتا ہے ۔وہ نور اور وہ ہدایت  جو خالق ِ علم بلکہ عین علم کی ذات باری سے رواں ہے اور وہ جس سینے سے چاہتا ہے رواں کر دیتا ہے  مگر شرائط و شروط کے ساتھ۔
    علم اس پانی کی طرح ہے اگر صحیح استعمال کیا جائے تو ہر طرف نور، روشنی اور حرکت پیدا کر دیتا ہے اور اگر منہ زور ہو جائے تو ہر طرف تباہی پھیلا دیتا ہے ۔اس علم پہ بھی ایک لگام کی ضروت ہے تاکہ  یہ منہ زوری سے باز رہےاور اپنے مالک کی حفاظت  و تابعداری کرے نہ کہ اسے میدان میں پٹخ دے۔
    علم کی لگام تقویٰ  الٰہی ہے۔(۱۱ محرم ۱۴۳۵)

فاخر رضا

بلاگر

میرا تعارف!

0 تبصرے :

ایک تبصرہ شائع کریں