ایک صبح اسپتال پہنچا، ابھی ایکسرے میٹنگ شروع ہی ہوئی تھی کہ نرس نے بتایا کہ ایک مریض کو خون کی الٹیاں ہورہی ہیں. میں جب وہاں پہنچا تو بلڈپریشر بے انتہا کم تھا. فوراً خون کے انتقال کا انتظام کیا. ایسے موقعوں پر خون کی چھ بوتلیں، پلیٹلیٹ کی چھ بوتلیں اور پلازمہ بھی اس مقدار میں ایک ساتھ دیا جاتا ہے اور یہ سب دس منٹ میں مہیا کرنا ہوتا ہے. معدے کے ڈاکٹرز کو بلایا انہوں نے اینڈواسکوپی کی اور وہاں صرف خون ملا. ایک غبارہ معدے میں ڈالا گیا اور اسے پھلایا تاکہ خون رک جائے. خون مسلسل بہ رہا تھا. اسی وقت ایکسرے ڈپارٹمنٹ میں فون کر کے کہا کہ کچھ کریں. انہوں نے کہا کہ فوراً مریض کو لے کر پہنچو. یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ وہ مریض مصنوعی سانس کی مشین پر لگایا جاچکا تھا اور دل کو پمپ بھی کرنے کے لئے ادویات دی جارہی تھیں. خیر مریض کو لے کر ایکسرے ڈپارٹمنٹ میں پہنچے. وہاں اس کی نسوں کے ذریعے سے وہاں پہنچنے کی کوشش کی گئی جہاں سے خون بہ رہا تھا. اس موقع پر ہم مسلسل خون کا انتظام کررہے تھے اور وہاں کے معالجین اپنا کام کررہے تھے. تقریباً تین گھنٹے کی مشقت کے بعد اس مریض کا بلڈ پریشر کچھ بہتر ہوا. واپس آئی سی یو میں آئے. یہاں پھر خون بہنا شروع ہوا پھر چھ چھ بوتلیں دی گئیں. اسی تمام کاروائی میں دوپہر ہوچکی تھی. تھکن سے سب چور چور ہوچکے تھے. پھر بھی لگے ہوئے تھے. دوبارہ معدے کے ڈاکٹر کوبلایا گیا مگر کوئی بھی حربہ خون روکنے میں ناکام رہا
آخر تقریباً شام چار بجے یہ فیصلہ ہوا کہ اس مریض کی جان نہیں بچائی جاسکتی اور اسے مزید خون نہیں دیا جائے گا، رات تک اس کا انتقال ہو گیا
یہ میرا معمول کا کام ہے اور تقریباً پینتیس فیصد مریض مر جاتے ہیں، مگر پینسٹھ فیصد بچ بھی جاتے ہیں
ہمارا کام کاروبار نہیں ہے جس میں نقصان کے ڈر سے انویسٹ نہیں کیا جاتا بلکہ دس فیصد فائدے کی امید پر بھی کوشش کی جاتی ہے
آخری بات ان لوگوں سے کہنی ہے جو انسان کی جان کو شک و شبہ اور ذاتی عقائد کی بنا پر لے لیتے ہیں. ایک دفعہ آکر دیکھیں کہ ہم ایک انسان کی جان بچانے کے لیے کیا کیا کرتے ہیں. میرے عزیز ترین اور اعلٰی ترین دوستوں کو گولی ماری گئی وہ بھی سر میں اور میں یہی سوچتا رہا کہ کیا یہ سب کرنے والے انسان ہیں. کیا وہ لوگ جو ایسا کرتے ہیں، دلیل کے مقابلے میں گولی، اپنی ہار تسلیم نہیں کرلیتے.
بات کہیں اور چلی گئی مگر سوچا کہ کہ دوں.
آخر تقریباً شام چار بجے یہ فیصلہ ہوا کہ اس مریض کی جان نہیں بچائی جاسکتی اور اسے مزید خون نہیں دیا جائے گا، رات تک اس کا انتقال ہو گیا
یہ میرا معمول کا کام ہے اور تقریباً پینتیس فیصد مریض مر جاتے ہیں، مگر پینسٹھ فیصد بچ بھی جاتے ہیں
ہمارا کام کاروبار نہیں ہے جس میں نقصان کے ڈر سے انویسٹ نہیں کیا جاتا بلکہ دس فیصد فائدے کی امید پر بھی کوشش کی جاتی ہے
آخری بات ان لوگوں سے کہنی ہے جو انسان کی جان کو شک و شبہ اور ذاتی عقائد کی بنا پر لے لیتے ہیں. ایک دفعہ آکر دیکھیں کہ ہم ایک انسان کی جان بچانے کے لیے کیا کیا کرتے ہیں. میرے عزیز ترین اور اعلٰی ترین دوستوں کو گولی ماری گئی وہ بھی سر میں اور میں یہی سوچتا رہا کہ کیا یہ سب کرنے والے انسان ہیں. کیا وہ لوگ جو ایسا کرتے ہیں، دلیل کے مقابلے میں گولی، اپنی ہار تسلیم نہیں کرلیتے.
بات کہیں اور چلی گئی مگر سوچا کہ کہ دوں.
آج کچھ دوستوں میں اتفاق سے اسی موضوع پر آن لائن گفتگو ہو رہی تھی۔ آپ کی تحریر کا ربط وہاں شریک کر دیا ہے۔
جواب دیںحذف کریںالسلام علیکم. سر آپ کا شکریہ. یہ کچھ ڈپریسنگ ہوگیا مگر تھا بالکل حقیقت پر مبنی.
حذف کریں