ہم چوری کیوں کرتے ہیں

فاخر رضا
میں اکثر سوچتا ہوں کہ انسان جھوٹ زیادہ بولتا ہے یا چوری زیادہ کرتا ہے 
دیکھا جائے تو ہم چوری کو جھوٹ سے زیادہ برا سمجھتے ہیں مگر اسکے باوجود جھوٹ سے زیادہ چوری کررہے ہوتے ہیں 
ہمارے نزدیک چوری کی بعض قسمیں اب مباح قرار دی جاچکی ہیں، جبکہ ہمارے بزرگ ان معاملات میں بہت سخت تھے. اگر کوئی رقم کسی کے پاس ہوتی تو وہ اسکے نوٹ تک تبدیل نہیں کرتا تھا. وقت سے ایک منٹ پہلے بھی آفس سے اٹھنا حرام سمجھا جاتا تھا. بجلی یا پانی چوری کرنا انتہائی درجے کی معیوب بات تھی. راستے میں پڑی ہوئی چیز کو لوٹانا ایک قدر تھی. لوگ اس کام میں فخر محسوس کرتے تھے. بچوں کی عیدی والدین ہی کو ملتی تھی مگر اسے بھی بچوں سے پوچھ کر یا انہی کی ضروریات پر خرچ کرتے تھے. کتابوں میں لالچ بری بلا ہے قسم کے اقوال پر کہانیاں ہوتی تھیں. ٹی وی پر تو کیا اگر کسی کی اخبار میں بھی چوری کی خبر کے ساتھ تصویر آجائے تو وہ منہ چھپاتا پھرتا تھا. والدین شرم سے پانی پانی ہوجاتے اور نوبت محلہ بدلنے پر پہنچ جاتی. نامحرم کی طرف آنکھ بھر کے دیکھنا بھی چوری تصور ہوتا تھا. بچے کے بیگ سے اگر کسی کی پینسل یا شارپنر نکل آتا تو شامت آجاتی اور بے بھاؤ کی مار پڑتی
ابھی بھی کچھ خاندانوں میں اس طرح کے آثار پائے جاتے ہیں مگر بحیثیت قوم ہمارے اندر سے یہ اقدار ختم ہوچکی ہیں. کسی کا موبائل اٹھا لینا، پیٹرول چوری کرنا، سکشن مشین سے پانی کھینچنا، کنڈے سے بجلی چرانا، زیادہ کی ہوس میں اپنے پرائے کا احترام نہ کرنا اور اسی طرح کی دوسری بری اقدار اب چھا چکی ہیں. موبائل فون مسجد میں بھی چوری ہوتے ہیں، بس میں بھی اور اسپتال میں بھی. کوئی جگہ نہیں بچی جہاں چوری نہ ہو. کسی پرائیویٹ ادارے میں وقت کے اندر کام کرنا محال ہے اور اوور ٹائم لگانا فرض ہے. گورنمنٹ اداروں میں وقت پر آنا اور پورے وقت ٹھہرنا مفقود ہوچکا ہے. اگر غلطی سے کوئی حلال خور افسر آ بھی جائے تو ماتحت اس کا جینا حرام کردیتے ہیں
اگر اس قوم کے حکمران چور ہوں بھی تو مجھے بتائیے کہ کون ہے جو انہیں سزا دینے کا اخلاقی حق رکھتا ہے، پولیس، عدالت، فوج، میڈیا کون سا ادارہ دودھ سے دھلا ہوا ہے 
حل کیا ہے
حل یہ ہے کہ میں اور آپ اپنے بچوں کو حلال کھلائیں، اگر ان کے پیٹ حرام سے محفوظ ہوں گے تو وہ صحیح بات سن سکیں گے. یہی بات امام حسین علیہ السلام نے اپنی شہادت سے قبل کہی تھی. فوج یزید دے خطاب فرماتے ہوئے جب سپاہیوں نے شور مچایا تو آپ نے فرمایا 
 وائے ہو تم پر میری طرف توجہ کیوں نہیں دیتے ہو تاکہ تم میری بات سن سکو۔ جو شخص بھی میری پیروی کرے گا وہ خوش بخت اور سعادت مند ہے اور جو کوئی گناہ اور مخالفت کا راستہ اختیار کرے گا، ہلاک ہونے والوں میں اس کا شمار ہوگا۔ تم سب نے گناہ اور سرکشی کا راستہ اختیار کیا۔ میرے حکم اور مشن کی مخالفت کر رہے ہو، اسی لئے میری بات نہیں سن رہے۔ ہاں یہ ان ناجائز اور حرام طریقہ سے حاصل شدہ تحفوں کا اثر ہے جو تمہیں اس فاسق گروہ کی طرف سے ملے ہیں۔ یہ ان حرام اور حرام غذاؤں اور غیر شرعی لقموں کا اثر ہے جن سے تمہارے پیٹ بھرے ہوئے ہیں کہ خدا نے تمہارے دلوں پر اس طرح مہریں لگا دی ہیں کہ میری بات نہیں سن رہے۔ تم پر افسوس ہو کیا چپ نہیں ہوتے۔ 
اس خطاب سے محسوس ہوتا ہے کہ رشوت اور مال حرام انسان کو حق سننے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے سے ناقابل بنا دیتا ہے
خدا ہمیں رزق حلال کھانے اور آپ اولاد کو رزق حلال کھلانے کی توفیق عطا فرمائے 
والسلام 
فاخر 

فاخر رضا

بلاگر

میرا تعارف!

1 تبصرہ :