خدا چاہتا ہے کہ بندے اپنے ارادے سے عبادت کریں
ارادہ، اختیار کے ساتھ. اگر ارادے پر اختیار نہ ہو تو..... حسین کے دور میں لوگوں کا اپنے ارادے پر اختیار نہیں رہا تھا، وہ اپنے ارادے کے خلاف کام کررہے تھے..... یہ ہے یزیدی عمل
ہر دور میں جابروں نے لوگوں کو اپنے ارادوں کے خلاف کام کرنے پر مجبور کیا ہے. جو اپنے ارادے سے دستبردار ہوگیا وہ قید ہوگیا. اب چاہے وہ عالیشان محل ہی میں کیوں نہ ہو. اس کے مقابلے میں اگر قید میں رکھ کر بھی جابر ارادے کو نہ توڑ پائے تو وہ شخص آزاد ہے. جابر کا قید کرنا ہی اس کی شکست کی علامت ہے. جب دلیل نہ ہو تبھی زبردستی کی جاتی ہے
کیا کہنے، پیارے بھائی۔ کیا ہی کہنے۔
جواب دیںحذف کریںبلاگر پر خوش آمدید۔ بہت مزا آیا اس بلاگ کی رونق دیکھ کر۔ لکھتے رہیے@
ماشاءاللہ
جواب دیںحذف کریںاللہ کرے زور قلم اور زیادہ
آمین
ماشاءاللہ
جواب دیںحذف کریںاللہ کرے زور قلم اور زیادہ
آمین