سو کلماتِ پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

ا۔ انسان جتنا جتنا بوڑھا ہوتا جاتا ہے اس کے اندر دوصفات جوان ہوتی جاتی ہیں: ایک حرص اور دوسری آرزو۔ 
۔ میری امت کے دوگروہ ایسےہیں کہ اگر وہ ٹھیک ہوجائیں تو میری امت درست ہوجائے گی اور اگر وہ بگڑجائیں تو میری امت بگڑجائے گی: ایک علماء اور دوسرے حکام۔
 ۳۔ تم سب گلے بان ہواورایک دوسرےکی نگرانی کے ذ مے دار ہو۔ 
۔ہرایک کو مال سے راضی نہیں کیا جاسکتا، لیکن حسن اخلاق سے راضی کیا جاسکتا ہے۔
 ۔ غربت و ناداری بلا ہے اس سے بدتر جسمانی بیماری اوردل کی بیماری سے زیادہ دشوار دل کی بیماری ہے
۔ مومن ہمیشہ حکمت کی تلاش میں رہتا ہے۔
۔ علم کو پھیلنے سے نہیں روکا جاسکتا۔
 ۔ انسان کا دل اس پر کی مانند ہے جو جنگل میں کسی درخت پر اٹکا ہوا ہو،اور ہوا کے چلنے سے ہروقت متغیر اور اوپر نیچے ہوتا رہتا ہو۔
 ۔مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سےدوسرے مسلمان محفوظ ہوں۔
۔ نیک کاموں کی ہدایت خودوہ کام کرنے کی مانند ہے۔
۔ہر سوختہ دل کے لئے آ خر کارایک اجرہے۔
۔ جنت ماؤں کے قدموں تلے ہے۔ 
۔ عورتوں کے ساتھ سلوک میں اللہ سےڈرو اور جتنا ہوسکےان کے ساتھ نیکی سے پیش آؤ۔
۔سب کا پروردگار ایک ہے اور سب ایک ہی باپ کی اولاد ہیں۔ تم سب فرزند آدم ہواور آدم مٹی سے پیدا ہوئےہیں۔ خدا کی نظر میں تم میں سب سے زیادہ باعزت وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔
۔ ضد سے پرہیز کرو کہ اس کا سبب جہالت اوراس کا نتیجہ شرمندگی ہے۔  
۔بدترین انسان وہ ہے جوخطا کومعاف نہ کرے اور لغزش سے چشم پوشی نہ کرے اور اس سے بھی زیادہ بدتر وہ ہے جس کے شرسےلوگ محفوظ نہ ہوں اور اس کی طرف سے انہیں نیکی کی امید نہ ہو
۔غصہ نہ کرواوراگر غصہ آجائے تو لمحے بھر کے لئے خالق کی قدرت کے بارے میں سوچو۔
۔جب تمہاری تعریف کی جا تو تم کہوا ے خدا مجھے اس سے بہتر بنادے جتنا یہ مجھے سمجھتے ہیں اور میرے بارے میں جو باتیں یہ نہیں جانتے انھیں تو معاف فرمادے اور جو کچھ یہ کہتے ہیں مجھے اس کا ذمےدار نہ ٹہرا۔
۔خوشامد کرنے والوں کے چہروں پر مٹی ڈال دو
۔اگرخدا کسی بندے کے ساتھ نیکی کرنا چاہتا ہے تو اس کے نفس کو اس کے لئے واعظ اور رہنما بنا دیتا ہے۔
۔مومن صبح وشام انپے آپ کوخطا کار سمجھتے ہوئے بسر کرتا ہے۔
۔تمہاراسخت ترین دشمن وہ نفس امارہ ہے جوتمہارےدو پہلوؤں کے درمیان واقع ہے۔
۔بہادر ترین انسان وہ ہے جواپنےنفس پرغلبہ پالے۔
۔اپنی نفسانی خواہشات کا مقابلہ کرو تاکہااسکے مالک بن جاؤ۔
۔ اس انسان کا بھلا ہو جواپنے عیوب پر توجہ کی وجہ سے دوسروں کے عیوب پر توجہ سے باز رہے۔
۔۔سچائی دل کوسکون پہنچاتی ہے اورجھوٹ شک اور پریشانی پیدا کرتا ہے۔
۔ مومن آسانی سے انس حاصل کر لیتا ہے اور دوسروں کے ساتھ مانوس ہو جاتاہے۔
 ۔مومنین عمارت کے اجزا کی مانند ایک دوسرے کی حفاظت کرتے ہیں۔ 
۔مومنین کی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور دوستی اس بدن کی مانند ہے کہ جب اس کا ایک عضو تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو دوسرے اعضا بخار اور بےخوابی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
۔ انسان کنگھی کے دندانوں کی طرح برابر ہیں۔
۔حصول علم ہرم سلمان پر واجب ہے۔
۔ جہالت سے بڑھ کر کوئی فقر نہیں، عقل سے بڑھ کر کوئی دولت نہیں اور غوروفکر سے بڑھ کر کوئی عبادت نہیں۔
۔گہوارے سے گور تک علم حاصل کرو۔
۔علم حاصل کرو چاہے چین جانا پڑے۔
۔مومن کی عظمت شب بیداری میں ہے اوراس کی عزت دوسروں سے بے نیازی میں ہے ۔
۔ علما ،علم کے پیاسے ہوتے ہیں۔
۔محبت، بہرہ اور اندھا کردیتی ہے۔
۔خدا کاہاتھ جماعت کے ساتھ ہے۔
۔پرہیزگاری جسم اور روح کو آرام بخشتی ہے۔
۔ جوکوئی چالیس دن خدا کی خاطر زندگی گزارے تو حکمت کے چشمے اس کے دل سے زبان پر جاری ہوجاتے ہیں۔
۔ خدا کی نظر میں اپنے گھرانے کے ساتھ رہنا،مسجد میں ڈیرا ڈال دے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔
۔ تمہارا بہترین دوست وہ ہے جو تمہیں تمہارے عیب دکھائے۔
۔علم کولکھ کر قید کرلو۔
۔جب تک دل ٹھیک نہ ہو،ا یمان ٹھیک نہ ہوگا، اور جب تک زبان درست نہ ہو،دل درست نہ ہوگا۔
۔جب تک کسی کی عقل کا امتحان نہ لےلو اس کے اسلام لانےکواہمیت نہ دو۔ 
۔صرف عقل کے ذریعے سے نیکیوں تک پہنچا جاسکتا ہے۔ جس کے پاس عقل نہ ہووہ دین سےمحروم ہے
۔ دین کو جتنا نقصان دشمن پہنچاتے ہیں اس سے زیادہ نقصان جاہل کی زبان پہنچاتی ہے۔
۔میری امت کے ہرصاحب عقل کے لئے چار چیزیں ضروری ہیں:علم کوسننا ،اسے یاد رکھنا ،اسے پھیلانا اور اس پر عمل کرنا۔
۔مومن کوایک سوراخ سے دومرتبہ نہیں ڈ سا جاسکتا۔
۔ مجھےاپنی امت کی غربت کا نہیں بے تدبیری کا خوف ہے۔
 ۔خدا خودجمیل ہےاور جمال کوپسند کرتا ہے۔
۔ اللہ ہنرمند مومن کو پسند کرتا ہے۔
۔خوش آمد مومن کی عادت نہیں ہوتی۔
۔ طاقت کا تعلق زورِبازو سے نہیں ہے بلکہ طاقتوروہ ہے جواپنے غصے پر قابو پالے۔ 
۔ بہترین انسان وہ ہے جو دوسرےانسانوں کے لئے سب سے زیادہ مفید ہو۔
۔تمہارےگھروں میں سے بہتری گھروہ ہے جس میں کوئی یتیم عزت سے زندگی گزارتا ہو۔
۔کتنی اچھی ہے وہ حلال دولت جو کسی نیک انسان کے ہاتھ میں ہو۔
۔عمل کا سلسلہ موت پر ختم ہوجاتا ہے، سوائے ان تین ذرائع کے: ایسی نیکی جو جاری رہنے والی ہو،ایسا علم جو مسلسل فائدہ پہنچاتا رہے، ایسی نیک اولاد جو والدین کے لئے دعائے خیر کرے۔ 
۔خدا کی عبادت کرنے والے تین قسم کے ہیں: ایک وہ جو خوف کی وجہ سے عبادت کرتے ہیں، اور یہ غلاموں کی عبات ہے۔ دوسرے وہ جو اجر کی لالچ میں عبادت کرتے ہیں ، اور یہ مزدوروں کی عبادت ہے۔تیسرے وہ جو عشق و محبت کی وجہ سے عبادت کرتے ہیں ، اور یہ آزاد مردوں کی عبادت ہے۔ 
۔تین چیزیں ایمان کی علامت ہیں:    تنگدستی کے باوجود دوسروں کی مدد کرنا، کسی کے فائدے کے لئے اپنے حق سے دستبردار ہوجانا، طالبعلم کوعلم سکھانا۔
۔دوست سے ا پنی دوستی کا اظہار کروتاکہ محبت کا تعلق مضبوط تر ہو۔
۔تین چیزیں دین کے لئے نقصاندہ ہیں:بدکار فقیہ، ظالم رہنما‘جاہل عابد۔
۔لوگوں کو ان کے دوستوں کے ذرائے پہچانو کیونکہ انسان اپنے جیسا اخلاق رکھنے والے کو دوست بناتاہے۔
۔چھپ کر گناہ گناہگارکونقصان پہنچاتا ہے اور کھلم کھلا گناہ کرنا معاشرے کو۔
۔دنیا کے کاموں کی بہتری کے لئے کوشش کرو لیکن اُمور آخرت کے لیے اس طرح کام کرو گویاکل ہی اس دنیا سے جارہے ہو۔
۔روزی کوزمین کی گہرائیوں میں تلاش کرو۔
۔کبھی کبھی لوگ خودستائی سے اپنی قد گھٹا دیتے ہیں اور انکساری سے اپنا مقام بڑھالیتےہیں۔
۔خدایا! میرے بڑھاپے اور زندگی کے آ خری ایام میں فراخ ترین روزی عطا فرما
۔اولاد کے باپ پر حقوق میں سے یہ بھی ہیں کہ اس کا اچھا نام رکھے، اسے لکھنا سکھائے اور جب بالغ ہوجائے تو اسکی شادی کرے۔
۔صاحب اقتدار طاقت کواپنے مفاد میں استعمال کرتا ہے۔
۔اعمال کےترازو میں رکھی جانے والی بھاری ترین چیزخوش اخلاقی ہے۔
۔تین چیزیں عقلمند انسان کی توجہ کے قابل ہیں: زندگی کی بہبودی، زادآخرت، حلال مسرت۔
۔ایسے انسان کی کیا بات جو فالتو مال دوسروں کودیدے اور فالتوباتیں اپنے پاس رکھ لے۔
۔ موت میں ہر نصیحت کرنے والے سے بے نیاز کردیتی ہے۔
۔ حکومت اور اقتدار کی اتنی ہوس اور آ خر میں اتنا غم اور پشیمانی
76۔ بدکار عالم بدترین انسان ہے۔
۔ جس جگہ بدکار حکمراں اوراحمق معزز ہوجائیں وہاں کسی بلا کی توقع رکھو۔
۔ لعنت ہواس پر جواپنا بار دوسروں کے دوش پر ڈال دے۔
۔ انسان کی خوبصورتی اس کی گفتار میں ہے۔
۔ عبادت کی ساتھ قسمیں ہیں اوران میں سے سب سے عظیم حلال روزی طلب کرنا ہے۔
۔ لوگوں سے خدا کے خوش ہونے کی علامت اُن کے یہاں قیمتوں میں کمی اور ان پر عادلانہ حکومت ہے۔
۔ہرقوم اسی حکومت کے لائق ہے جواس پر ہوتی ہے۔
۔ گالیاں دے کر لوگوں کی عداوت کے سوا کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے۔ 
۔بت پر ستی کے بعد جس چیز سے مجھے روکا گیا ہے وہ لوگوں کے ساتھ جھگڑا کرنا ہے۔
۔ جو کا م سوچے سمجھے بغیر انجام دیا جائے اس میں بسااوقات نقصان کا امکان ہوتا ہے۔
۔جو شخص لوگوں کے ساتھ اتفاق سے رہنےکی نعمت سے محروم ہے وہ نیکیوں سے یکسر محروم رہے گا۔
۔ دوسروں سےکوئی چیزنہ مانگو چاہے مسواک کی ایک لکڑی ہی کیوں نہ ہو۔
۔ خدا کو یہ بات پسند نہیں ہے کہ وہ اپنے بندے کو اس کے ساتھیوں کے درمیان خاص امتیاز کے ساتھ د یکھے۔
۔مومن خوش رو اور شوخ ہوتا ہے اور منافق ترش رو اور غصیلہ ۔
۔ اگر فال بدلو تو اپنا کام جاری رکھواور برا خیال کرو تو بھول جاؤ اور اگر حسد ہوجائے تو پروقار رہو۔
۔ محبت کے ساتھ ایک دوسرے سے مصا فحہ کرو کہ یہ کینے کودل سے نکال دیتا ہے۔ 
۔ جو شخص اس حالت میں صبح کرےکہ مسلمانوں کے امور کی اصلاح کی فکر میں نہ ہو تو وہ مسلمان نہیں ہے۔
۔ خوش روئی کینے کودل سے نکال دیتی ہے۔
۔ کہیں لوگوں کا خوف تمہیں حق بات کہنےسے بازنہ رکھے!
۔ عقلمند ترین انسان وہ ہے جودوسروں کے ساتھ اچھی طرح بنا کے رکھے۔
۔ ایک ہی سطح پر زندگی گزارو،تا کہ تمہارے دل ایک ہی سطح پر رہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ میل ملاقات رکھو تا کہ باہم مہربان رہو۔
۔ موت کے وقت لوگ پوچھتے ہیں کہ کتنا مال ودولت چھوڑا ہے؟ اور فرشتے پوچھتے ہیں کہ کتنا نیک عمل آگے بھیجا ہے؟
۔اللہ کے نزدیک نفرت انگیز ترین حلال کا م طلاق ہے۔
۔ لوگوں کے درمیان اصلاح کرنا بہترین کارخیر ہے۔
 خدایا مجھےعلم سے توانا، بنا بردباری سے زینت بخش، پرہیزگاری سے عزت دے اور تندستی سے خوبصورتی عطا فرما۔
یہ اقوال شہید مطہری کی کتاب سیرت نبوی ایک مطالعہ سے لئے گئے ہیں. پبلشر، دارالثقلین 

واذا مرضت فھو یشفین
حضرت ابراہیم علیہ السلام نہایت ہی جری اور بیباک نبی تھے جو شرک کے خلاف ہر طرح سے مقابلے کے لئے تیار رہتے تھے۔ ان کا انداز بھی ایسا تھا کہ اعتراض کرنے والا خود ہی اپنے دام میں پھنس جاتا تھا۔ ایسے ہی ایک موقع کا قرآن میں ذکر آیا ہے جس میں خدا فرماتا ہے۔
اور انہیں ابراہیم کی خبر پڑھ کی سناؤ۔ جب انہوںنے اپنے مربی باپ اور قوم سے کہا کہ تم لوگ کس کی عبادت کررہے ہو ۔ ان لوگوں نے کہا کہ ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں اور انہی کی مجاوری کرتے ہیں۔(اس جملے سے پتہ جلتا ہے کہ وہ نہ صرف بت پرستی کرتے تھے بلکہ اس پر نازاں بھی تھے)  تو ابراہیم نے کہا کہ جب تم ان کو پکارتے ہو تو یہ تمہاری آواز سنتے ہیں ؟(یعنی ہونا تو یہ چاہیے کہ وہ تمہاری مدد کریں ، تمہاری مشکلات حل کریں، خیر اگر وہ ایسا نہیں بھی کرتے تو کم از کم تمہاری بات ہی سن لیں)۔ یہ کوئی فائدہ یا نقصان پہنچاتے ہیں ؟(اس سوال پر وہ لوگ لاجواب ہوگئے اور وہی کھسا پٹا جواب دینے لگے) ان لوگوں نے جواب دیا کہ ہم نے اپنے باپ داداکو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے۔ ابراہیم نے کہا کہ کیا تم کو معلوم ہے کہ جن کی تم عبادت کرتے ہو ،تم اور تمہارے تمام بزرگان خاندان، یہ سب میرے دشمن ہیں،رب العالمین کے علاوہ ۔(یہاں سے پتہ چلتا ہے کہ ان میں بھی کچھ لوگ اللہ کی عبادت کرتے تھے یا اسے شریک کے طور پر ضرور مانتے تھے۔ )کہ جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور پھر وہی ہدایت بھی دیتا ہے ۔(یہاں خدا نے یہ واضح کردیا کہ خلقت کے ساتھ ہی ساتھ خدا نے ہدایت بھی ہمارے خمیر میں گھوند دی ہے، اسے ہماری فطرت میں شامل کردیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ بیرونی طورپر رسول اور کتاب بھی مرحمت فرمائی) وہی کھانادیتا ہے اور وہی پانی پلاتا ہے ۔(جہاں ہماری روحانی اصلاح اور ہدایت کی ضروریات کا اہتمام خدا کرتا ہے وہیں ہماری جسمانی ضروریات بھی خدا ہی پوری کرتا ہے۔غذا اور پانی اسی نے عنایت فرمائے ہیں) اور جب بیمار ہوجاتا ہوں تو وہی شفا بھی دیتا ہے۔(یہاںحضرت ابراہیم علیہ السلام نے کمال ادب اور احترام کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیماری کو خدا کی طرف نسبت نہیں دی اور اسے اپنی طرف پلٹایا ہے۔ فرمایا جب میں بیمار ہوتا ہوں، جبکہ ہم جانتے ہیں کہ بعض بیماریاں بھی خدا کی طرف سے ہوتی ہیں۔مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے اپنی طرف نسبت دی۔)  (سورہ شعرا آیت 69-80)
ان آیات کے سلسلے میں بیماری اور شفا کا ذکر ہوا ہے ۔ لفظ مرض قرآن میں عام طور پر دل کے مرض یا کردار کی کمزوری کے لئے استعمال ہوا ہے اور بعض جگہوں پر دل پر مہر لگانے کی بھی بات ہوئی ہے۔ دل کی یہ بیماری جسمانی بیماری نہیں ہے بلکہ ایک روحانی بیماری ہے، جسکی آخری اسٹیج میں انسان لاعلاج ہوجاتا ہے اور پھر وہ نصیحت قبول نہیں کرتا۔ اس بارے میں قرآن کے کئی جگہ اشارہ کیا ہے۔ جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیت نمبر 6 سے لیکر 20 تک ذکر ہوا ہے۔
یہاں ہمارا موضوع بحث جسمانی بیماری، اس کا فلسفہ اور اس سے نجات ہے۔ اس حوالے سے ہمیں قرآن میں ہی ایک اور نبی کا ذکر ملتا ہے اور وہ ہیں حضرت ایوب علیہ السلام۔ آپ کے بارے میں بہت سی من گھڑت باتیں بھی کہی گئیں جو شاید اسرائلیات سے اسلام میں آئی ہوں اور ان کا مقصد انبیاء کی عظمت کو کم کرنا اور ان کی کردار کشی ہے۔ حضرت ایوب علیہ السلام کے بارے میں ہمیں سب سے زیادہ محکم ذکر حضرت جعفر صادق علیہ السلام کی زبانی ملتا ہے۔ ہم پہلے امام کی حدیث بیان کریں گے اور اس کے بعد وہ آیت جس میں حضرت ایوب کا ذکر ہے۔
کسی نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے پوچھا کہ جو مصیبت حجرت ایوبؑ کو دامن گیر ہوئی تھی وہ کس لئے تھی؟
امام صادق  ؑ نے اس کے جواب میں جو کچھ فرمایا اس کا خلاصہ یہ ہے۔
ایوب پر جو مصیبت آئی اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ انہوں نے کفران نعمت کیا تھا۔ بلکہ اس کے برعکس شکر نعمت کی وجہ سے تھی، کیونکہ ابلیس نے ان پر حسد کیا اور بارگاہ خدا میں عرض کی کہ اگر وہ تیری نعمتوں کا اتنا شکر ادا کرتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ تونے اسے بڑی خوشحال زندگی دی ہے اگر تو اس سے دنیا کی مادی نعمات کو چھین لے توپھر وہ ہرگز تیرا شکر ادا نہیں کرے گا۔ تو مجھے اس پر مسلط کردے تو پتہ چل جائے گا کہ جو کچھ میں کہ رہا ہوں وہ درست ہے ۔ خدا نے اس مقصد سے کہ یہ قصہ راہ حق کے تمام راہیوں کے لئے ایک سند بن جائے ، شیطان کو اس بات کی اجازت دے دی وہ اپنے کام میں مشغول ہوگیا اور ایوب کے مال اور اولاد کو یکےبعد دیگرے ختم کرتا چلا گیا، لیکن ان دردناک حادثات نے نہ صرف یہ کہ شکر ایوب میں کوئی کمی نہ کی ، بلکہ ان کا شکر اور بڑھتا گیا۔ شیطان نے خدا سے درخواست کی کہ اسے انکی زراعت اور بھیڑوں پر مسلط کردے ۔ یہ اجازت بھی اسے دے دی گئی اور اس نے ساری زراعت کو آگ لگادی اور ساری بھیڑوں کو ہلاک کردیا۔ پھر بھی ایوب کی طرف سے حمد پروردگار اور شکر میں اضافہ ہی ہوتا چلاگیا۔
آخر شیطان نے خدا سے درخواست کی کہ وہ ایوب کے بدن پر مسلط ہوجائے اور ان کےلئے شدید بیماری کا سبب بنے اور ایسا ہی ہوگیا۔ اس طرح سے کہ وہ شدت بیماری اور زخموں کی وجہ سے چلنے پھرنے اور حرکت کرنے سے بھی مجبور ہوگئے۔
البتہ ان کی عقل و شعور میں کسی قسم کا کوئی خلل پیدا نہ ہوا۔
خلاصہ یہ کہ تمام نعمتیں یکے بعد دیگرے ایوب سے لی جارہی تھیں لیکن ان کا شکر پڑھتا ہی جارہاتھا۔ یہاں تک کہ کچھ راہب انہیں دیکھنے آئے اور ان سے پوچھا:    
ہمیں بتا تو سہی! کہ تونے کونسا ایسا گناہ یا ہے کہ ایسی مصیبت میں مبتلا ہوگیا ہے؟
اس طرح کی بات سے حضرت ایوب کوتکلیف پہنچی اور انہوں نے جواب دیا: مجھے اپنے پروردگار کی عزت کی قسم ہےکہ میں نے کسی غذا کا کوئی ایک لقمہ بھی اس وقت تک نہیں کھایا، جب تک کوئی یتیم و ضعیف میرے دسترخوان پر نہ بیٹھا ہو اور خدا کی کوئی اطاعت سامنے نہیں آئی مگر یہ کہ میں نے اس میں سے سخت ترین کو اختیار کیا۔
یہ وہ موقع تھا کہ جب ایوب تمام امتحانات میں صبر و شکر کے ساتھ عہدہ برا ہوچکے تھے۔ تو زبان، دعا اور مناجات کے لئے کھولی اور خدا سے اپنی مشکلات کا حل انتہائی مؤدبانہ طریقے سے چاہا۔ لہجہ ہر قسم کی شکایت سے خالی تھا۔ فرمایا
وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ
اور ایوب علیہ السّلام کو یاد کرو جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھے بیماری نے چھولیا ہے اور تو بہترین رحم کرنے والا ہے ۔(یہاں بھی انداز وہی ہے جو حضرت ابراہیم ؑ کا تھا کہ بیماری کو خدا کی طرف نسبت نہیں دی بلکہ فرمایا کہ بیماری نے مجھے چھو لیا ہے۔ لہجہ میں کوئی شکایت نہیں تھی اور اس کے حل کے لئے خدا کو صفت رحمت سے پکارا کہ اب تو جو ارحم الراحمین ہے جیسا مناسب سمجھے کرے)
ضر ہر قسم کی بیماری اور پریشانی کو کہتے ہیں کہ جو انسان کی روح اور جسم کو عارض ہو اور اسی طرح سے یہ لفظ کسی عضو کا نقص، مال کا تلف ہونا ، عزیزوں کی موت ، حیثیت و مقام کی پامالی اور اسی طرح کی دوسری باتوں کے لئے بولا جاتا ہے۔ درج بالا قول معصوم سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ایوب ان تمام ہی مطالب میں ضر کا شکار ہوئے تھے۔
اس کے جواب میں خدا فرماتا ہے۔
فَاسْتَجَبْنَا لَهُ فَكَشَفْنَا مَا بِهِ مِن ضُرٍّ ۖ وَآتَيْنَاهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُم مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنْ عِندِنَا وَذِكْرَىٰ لِلْعَابِدِينَ 
تو ہم نے ان کی دعا کو قبول کرلیا اور ان کی بیماری کو دور کردیا اور انہیں ان کے اہل وعیال دے دیئے اور ویسے ہی اور بھی دے دیئے کہ یہ ہماری طرف سے خاص مہربانی تھی اور یہ عبادت گزار بندوں کے لئے ایک یاد دہانی ہے ۔ (سورہ انبیاء آیت 83-84)
انسان،  بیماری کو اپنے لئے ایک مصیبت اور پریشانی سمجھتا ہے اور بہت جلد اس سے گھبراجاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں انبیا ءؑ اور ائمہ معصومین علیہم السلام بیماری کو خدا کی حکمت سمجھتے تھے اور اس میں بھی اپنے لئےمثبت پہلو ڈھونڈتے تھے۔ اس سلسے میں امام زین العابدین علیہ السلام کی دعا جو وہ کسی بیماری یا کرب و اذیت میں مبتلا ہونے کی صورت میں پڑھتے تھے، بیماری کے فلسفے اور خدا سے طلب صحت کے متعلق دعا میں فرماتے ہیں۔
 اے معبود! تیرے ہی لیے حمد وسپاس ہے اس صحت وسلامتی بدن پر جس میں ہمیشہ زندگی بسر کرتا رہا اور تیرے ہی لئے حمد سپاس ہے اس مرض پر جو اب میرے جسم میں تیرے حکم سے رونما ہوا ہے۔ اے معبود! مجھے نہیں معلوم کہ ان دونوں حالتوں میں سے کونسی حالت پر تو شکریہ کا زیادہ مستحق ہے اور ان دونوں وقتوں میں سے کونسا وقت تیری حمد وستائش کے زیادہ لائق ہے۔ آیا صحت کے لمحے
 جن میں تو نے اپنی پاکیزہ روزی کو میرے لیے خوش گوار بنایا اور اپنی رضا وخوشنودی اورفضل واحسان کے طلب کی امنگ میرے دل میں پیدا کی اور اس کے ساتھ اپنی اطاعت کی توفیق دے کر اس سے عہدہ برآ ہونے کی قوت بخشی
 یا یہ بیماری کا زمانہ
 جس کے ذریعہ میرے گناہوں کو دور کیا اور نعمتوں کے تحفے عطا فرمائے تاکہ ان گناہوں کا بوجھ ہلکا کر دے جو میری پیٹھ کو گراں بار بنائے ہوئے ہیں اوران برائیوں سے پاک کر دے جن میں ڈوبا ہوا ہوں اورتوبہ کرنے پر متنبہ کر دے اورگزشتہ نعمت (تندرستی ) کی یاد دہانی سے کفر(کفر ان نعمت کے ) گناہ کو محو کر دے اوربیماری کے اثنا میں کاتبان اعمال میرے لیے وہ پاکیزہ اعمال بھی لکھتے رہے جن کا نہ دل میں تصور ہوا تھا نہ زبان پر آئے تھے اورنہ کسی عضو نے ا سکی تکلیف گوارا کی تھی ۔ یہ صرف تیرا تفضل واحسان تھا جو مجھ پر ہوا ۔
اے اللہ !رحمت نازل فرما محمد اوران کی آل پر اور جو کچھ تو نے میرے لیے پسند کیا ہے وہی میری نظروں میں پسندیدہ قرار دے اور جو مصیبت مجھ پر ڈال دی ہے اسے سہل وآسان کر دے اورمجھے گزشتہ گناہوں کی آلائش سے پاک اورسابقہ برائیوں کو نیست ونابود کر دے اورتندرستی کی لذت سے کامران اورصحت کی خوش گواری سے بہرہ اندوز کر اور مجھے اس بیماری سے چھڑا کر اپنے عفو کی جانب لے آ ، اوراس حالت افتادگی سے بخشش ودرگزر کی طرف پھیر دے اور اس بے چینی سے نجات دے کر اپنی راحت تک اور اس شدت وسختی کو دور کرکے کشائش ووسعت کی منزل تک پہنچا دے اس لیے کہ تو بے استحقاق احسان کرنے والا اور گرانبہا نعمتیں بخشے والا ہے اور تو ہی بخشش وکرم کا مالک اورعظمت وبزرگی کا سرمایہ دار ہے۔
خدا سے دعا ہے کہ ہر بیمار کو صحت کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے اور ائمہ معصومین علیہم السلام کے صدقے میں تمام بیماروں کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

اس موضوع پر میں نے ایک مجلس پڑھی تھی. یہاں اسکا لنک بھیج رہا ہوں. آپ لوگ سن کر اپنے کمینٹ دے سکتے
ہیں. صرف آدھا گھنٹے کی تقریر ہے.
اس لنک کو براؤزر میں پیسٹ کریں اور سنیں

https://www.dropbox.com/s/4wlu4ax3j6byo70/%D9%88%D8%A7%D8%B0%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%B6%D8%AA%20%D9%81%D9%87%D9%88%20%DB%8C%D8%B4%D9%81%DB%8C%D9%86.m4a?dl=0
ایک مرتبہ ایک بادشاہ نے اپنے وزیر کو آدھی سلطنت دینے کو کہا ، لیکن ساتھ میں کچھ شرائط بھی عائد کیں۔ وزیر نےلالچ میں آکر شرائط جاننے کی درخواست کی بادشاہ نے شرائط 3 سوالوں کی صورت میں بتائیں۔
دنیا کی سب سے بڑی سچائی کیا ہے؟
دنیا کا سب سے بڑا دھوکا کیا ہے؟
دنیا کی سب سے میٹھی چیز کیا ہے ؟
بادشاہ نے اپنے وزیر کو حکم دیا کہ وہ ان تین سوالوں کے جواب ایک ہفتہ کے اندر اندر بتائے بصورت دیگر سزائے موتسنائی جائے گی۔وزیر نے سب پہلے دنیا کی بڑی سچائی جاننے کے لئے ملک کے تمام دانشوروں کو جمع کیا اور ان سےسوالات کے جواب مانگے ۔انہوں نے اپنی اپنی نیکیاں گنوائیں ۔لیکن کسی کی نیکی بڑی اور کسی کی چھوٹی نکلی لیکن سب سے بڑی سچائی کا پتہ نہ چل سکا۔اس کے بعد وزیر نے دنیا کا سب سے بڑا دھوکا جاننے کے لئے کہا تو تمامدانشور اپنے دئے ہوئے فریب کا تذکرہ کرتے ہوئے سوچنے لگے کہ کس نے کس کو سب سے بڑا دھوکا دیا لیکن وزیر اس سے بھی مطمئن نہیں ہوا اور سزائے موت کے خوف سے بھیس بدل کر وہاں سے فرار ہوگیا ۔چلتے چلتے رات ہوگئی ،اسی دوران اس کو ایک کسان نظر آیا جو کھرپی سے زمین کھود رہا تھا۔ کسان نے وزیر کو پہچان لیا ،وزیر نے اس کو اپنیمشکل بتائی جسے سن کر کسان نے اس کے سوالوں کی جواب کچھ یوں دئے
دنیا کی سب سے بڑی سچائی موت ہے ۔
دنیا کا سب سے بڑا دھوکا زندگی ہے۔
تیسرے سوال کا جواب بتانے سے پہلے کسان نے کہا کہ میں اگر تمہارے سارے سوالوں کےجواب بتادوں تو مجھے کیا ملے گا ،سلطنت تو تمہارے ہاتھ آئے گی۔ یہ سن کر وزیر نے اسے بیس گھوڑوں کی پیشکش کی اور اسے ہی اصطبل کا نگرانبنانے کی بھی پیشکش کی۔کسان نے یہ سن کر جواب دینے سے انکار کر دیا ۔وزیر نے سوچا کہ یہ تو آدھی سلطنت کا خواب دیکھ رہا ہے ۔وزیر جانے لگا تو کسان بولا کہ اگر بھاگ جاؤگے تو ساری زندگی بھاگتے رہو گے اور بادشاہ کے بندےتمہارا پیچھا کرتے رہیں گے اور اگر پلٹو گے تو جان سے مارے جاؤگے۔یہ سن کر وزیر رک گیا اور کسان کو آدھی سلطنت کی پیشکش کی لیکن کسان نے اسے لینے سے انکار کر دیا۔
اتنے میں ایک کتا آیا اور پیالے میں رکھے ہوئے دودھ میں سے آدھا پی کر چلا گیا ۔کسان نے وزیر سے کہا مجھے آدھی سلطنت نہیں چاہیے بس تم اس بچے ہوئے دودھ کو پی لوتو میں تمہارے تیسرے سوال کا جواب بتادوں گا ۔یہ سن کر وزیر تلملا گیا مگر اپنی موت اور جاسوسوں کے ڈر سے اس نے دودھ پی لیا۔وزیر نے دودھ پی کر کسان کی طرف دیکھا اور اپنے سوال کا جواب مانگا.

تو کسان نے کہا کہ دنیا کی سب سے میٹھی چیز انسان کی غرض ہے جس کے لئے وہ ذلیل ترین کام بھی کر جاتا ہے
لکھنے والے کا نام نہیں معلوم، مجھے میرے دوست ترس علی نے نجف سے بھیجا ہے
کہتے ہیں ایک بیدار دل نے گناہ کے بعد توبہ کر لی تھی لیکن ہمیشہ روتا رہتا تھا. لوگوں نے اس سے کہا کہ اتنا کیوں روتا ہے، کیا جانتا نہیں کہ خداوند عالم معاف کرنے والا ہے. اسنے کہا ہاں ممکن ہے خداوند عالم معاف کردے، لیکن یہ خجالت و شرمساری کہ اس نے مجھے گناہ کرتے ہوئے دیکھ لیا ہے اسے خود سے کیسے دور کروں
گیرم کہ تو از سر گناہ درگزری 
زان شرم کہ دیدی کہ چہ کردم چکنم؟ 
میں نے مانا کہ تو میرے گناہ کو ضرور معاف کر دے گا 
لیکن اس شرم کا کیا کروں کہ تو نے دیکھ لیا ہے کہ میں نے کیا کیا ہے 
آئیے معاف کریں 
میرے بابو نے مجھے ایک بات سکھائی تھی، وہ کہتے ہیں کہ کسی کو معاف کرنا اور معافی مانگنا سامنے والے کے لئے نہیں بلکہ خود اپنے لئے مفید ہے. وہ کہتے ہیں کہ کسی سے آپ کے دل میں خلش، پاؤں میں چبھے کانٹے کی طرح ہے، جب چلیں گے تکلیف ہوگی. علاج ہے پاؤں سے کانٹا نکال دینا، یعنی معاف کردینا. ہم کڑھ کڑھ کے جس کے لئے اپنی راتیں برباد کرتے ہیں وہ تو سکون سے سو رہا ہوتا ہے. اگر آپ بھی سکون چاہتے ہیں تو معاف کر دیں. میں اس میں اتنا اضافہ کردوں کہ معاف کر دیں اور معافی مانگ لیں. جس سے معافی نہیں مانگ سکتے اس کی مغفرت کے لئے دعا کریں.
ایک اور بات اور یہ ہے کہ بابو کہتے ہیں جو معاف کرے گا اسی کو معافی ملے گی.
معاف کرنا ایک خدائی صفت ہے اور خدا اس صفت کو بہت پسند کرتا ہے. وہ غفار بھی ہے اور ستار بھی، یعنی معاف کر دیتا ہے، اور اس معافی کا نہ دوسروں کو بتاتا ہے، نہ جتاتا ہے نہ گناہ کو آشکار کرتا ہے. ہمیں بھی معاف کرتے وقت ان باتوں کا خیال رکھنا چاہیے.
کسی کو معاف کرنے کے لئے سامنے والے کے معافی مانگنے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے. بس معاف کردینا چاہیے. فاخر 
صبر کرنا اورمعاف کردینا بہت مشکل ہے۔بہت ہی مشکل۔لیکن ہمیں یہ دعا کرتے رہنی چاہیے کہ اللہ ہمیں معاف فرمائے اور معاف کرنے کی توفیق اور آسانی بھی عطا کرے۔آمین!ثم آمین!
بعض اوقات اس قدر بڑے اور دائمی نقصان ہو چکے ہوتے ہیں کہ اللہ کی قسم !ہرگز ہر گز معاف کرنے کو دل نہیں مانتا ،نہیں مانتا۔۔۔۔۔۔۔
لیکن پیارے نبیﷺ کا کہنا کیسے نہ مانیں۔۔۔۔۔
۔کیسے اُن کا سامنا کریں گے اگر معاف نہیں کریں گے؟
کیسے اللہ سے معافی کی امید و تمنا رکھیں گے اگر معاف نہ کریں گے؟
کیسے اپنے بچوں کو درگذر کرنا سکھائیں گے اگر خود نہیں کریں گے؟
اللہ ہمیں معاف فرمائے اور ہمارے دلوں سے کینہ،نفرت،بغض،حسد،بدلہ کا خیال نکال کے ہمارے دلوں کو صاف شفاف اور اولوں کے پانی سے دھو ڈالے۔ہمارے دلوں کو سکون اور ٹھنڈک عطا فرمائے۔صحت و آرام دے۔ہمارے نقصانات کے بدلے بہترین جزا اور بدل عطا فرمائے۔ موت کے وقت ہم نے سب کو  معاف کر دیا ہو اور سب نے ہمیں ۔کسی کا کوئی حق اور قرض اور معافی مانگنی رہ نہ  گئی ہو۔آمین! ثم آمین! جاسمن
آپ کا لکھا ہوا پڑھ کر رقت تاری ہو گئی. جب بھی رسول اکرم کا نام آتا ہے تو فتح مکہ یاد آجاتی ہے. کیسے آپ نے سید الشہداء حضرت حمزہ کا خون معاف کیا تھا. معاف کرنے کے لئے اتنا ہی جگر چاہیے.
شاید جب ہم ایک بڑے مقصد کے لئے کام کر رہے ہوتے ہیں تو یہ کام آسان ہو جاتا ہے.
کربلا ہی کو دیکھ لیں، امام حسین علیہ السلام نے اپنے چھ ماہ کے بچے کو اپنی گود میں تڑپتا دیکھا پھر بھی امت کی اصلاح کی دعا کرتے رہے. فاخر 
خدا ہم سب کو اپنی مغفرت سے مستفید فرمائے.
اپنے محبوب چچا کے قاتلوں کو معاف کرنا بہت ہی بڑا عمل ہے۔
اس کے علاوہ مجھے واقعہ طائف بہت ہی بڑا واقعہ لگتا ہے معافی کے حوالے سے۔ میری روح کانپ اُٹھتی ہے جب میں یہ واقعہ یاد  کرتی ہوں۔۔۔آپ تصور کریں کہ اتنے سارے لوگ آپ کے پیچھے ہوں اور مسلسل آپ کی شان میں۔۔۔ اور مزید اپ کو جسمانی تکلیف بھی دے رہے ہوں۔ آوازے۔۔۔۔آہ! ۔کون برداشت کر سکتا ہے؟
کوئی بھی برداشت نہیں کر سکتا۔یہ مشکل ہی نہیں ناممکن لگتا ہے۔لیکن ہمارے پیارے نبیﷺ نے اس ناممکن کام کو ممکن بنا دیا۔ ہے کوئی اُن جیسا؟ہمارے پیارے پیارے پیارے پیارے نبیﷺ۔۔۔ہمارے آخری نبیﷺ۔۔۔۔
بس یہ واقعہ ہی یاد کر لیں تو معاف کرنا کچھ آسان لگنے لگتا ہے۔جاسمن