جب محبوب حقیقی کی نیاز میں حاضری ہوتی ہے تو سب کچھ اتار کر بغیر سلا کفن نما احرام ہی پہنا جاتا ہے اور جب جہان فانی سے جاتے ہیں تو بھی سب کچھ اتار کر وہی بغیر سلا اصل کفن۔
اب جو اپنی مرضی سے اس دنیا میں پہن لے اس کے نصیب کی بات ہے۔
جتنا بھی وفور محبت ہو تب بھی آداب عشق تو ملحوظ رکھنے ہی پڑتے ہیں۔ عشق میں دیوانہ وار دوڑنے کے باوجود انسان دیوانہ نہیں ہوتا۔ اسی کی مرضی کے تابع ہوتا ہے اور اسی کی مرضی کے تابع رہتا ہے۔ ایک وقت تھا جب بی بی حاجرہ پانی کی تلاش میں دیوانہ وار دوڑ رہی تھیں اور خدا نے زمزم کا اہتمام کردیا۔ یہ تو خدا ہی جانتا ہے کہ وہ پانی کی تلاش میں تھیں یا خدا کو پکار رہی تھیں۔ وہ پیاس زمزم کی تھی یا عشق کی آگ تھی۔
ایک عام بات یہ ہے کہ صوفیا جو اصل میں صوفیا رہے ہیں، ہمیشہ شریعت کے پابند رہے ہیں۔ ان کے ہاں کسی بھی طرح شریعت کا لحاظ نہ رکھنا بارگاہِ حق میں بے ادبی کے مترادف ہے۔
ان کا عشق بندگی کی حد کو پہنچ چکا ہوتا ہے۔ اور یہ عشق (بندگی والا عشق) صرف خدا ہی کے لئے جائز سمجھتے ہیں۔ شاید اسی لئے ان کی لوگوں سے نہیں بن پاتی۔ ان کے مرید تو ہوتے ہیں مگر دوست کم ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ دوستی دو طرفہ ہوتی ہے اور مریدی یک طرفہ۔ عاشق اپنے عشق میں ہی رہتا ہے اور مرید عاشق کے عشق میں۔ ایک طرف عبادت ہورہی ہوتی ہے اور دوسری طرف شرک۔ کہا دونوں کو عشق ہی جاتا ہے۔ پھر جب عقدہ کھلتا ہے تو صرف اللہ ہی اللہ رہ جاتا ہے۔ پیر اور مرید ختم ہوجاتے ہیں۔
کعبہ کے گرد پروانوں کا چکر لگانا اور اس آگ میں جلنے کی آرزو جس میں ابراہیم علیہ السلام کود گئے تھے۔ کیا منظر ہوتا ہے۔ خد اسب کو زیارت نصیب کرے
السلامُ علیکم
جواب دیںحذف کریںصبح بخیر
امام علی علیہ السّلام:-
"احمق کے مقابلے میں خاموش رہنا اسے جواب دینے سے بہتر ہے "-
(اقوال علی علیہ السّلام ص 167)